*

عظیم محقق، مفکر اورعلام

محمد فتح اللہ گلین مشرقی ترکی کے شہر ارض رو م میں ہوئے ۔آپ ایک مذہبی سکالر ،مفکر ،ممتازایل قلم اورشاعر ہیں ۔ انہوں نے مذہبی علوم میں بہت سے قابل ذکر مسلم علماء اور روحانی پیشواؤں سے تربیت حاصل کی ۔گلین نے جدید معاشرتی اورطبعی علوم کے اصول وضوابط اورنظریات کا بھی عمیق مطالعہ کیا۔علم وفضل میں غیر معمولی مہارت اورذاتی مطالعہ میں ارتکاز کی بناپر وہ جلد ہی اپنے ہم عصروں سے آگے نکل گئے ۔1958ء میں زبردست امتحانی نتائج کے حصول کی وجہ سے انہیں ریاستی مبلغ کا اجازت نامہ دیا گیا اور جلد ہی ترکی کے تیسرے بڑے صوبے ازمیر...
فکر مند اور متحرک انسان PDF پرنٹ کریں ای-میل
تحریر Administrator   
27.03.2008

فکرمند اور متحرک انسان وہ فعال اور متحرک شخص ہے جس کا اٹھنا بیٹھنا جدید عالمی نظام کے نفاذ کے لئے ہو, وہ مدتوں سے تباہ وبرباد روحانیت کے محلوں کو نئے سرے سے تعمیر کرے۔ اور ہمار ا تاریخی مقام ہمیں واپس دلانے کی کوشش کرے, اور ایک بار پھر ہمارے دینی اثاثوں کی تشریح کرے, اور فکر وتحریک کے لئے ارادہ ومنطق کے پیالے کو صحیح صحیح استعمال کرے, اور ہمارے روح و معانی کی چادروں پر ایسی کڑھائی کرے جو خوبصورت بھی ہو اور ہمارے معیار کے مطابق بھی۔

نظام حیات ہمیشہ زندگی کے ایسے خطوط پر جو احساس سے فکر تک, اور اس کے بعد عملی زندگی تک پھیلے ہوئے ہیں میں سانس لیتا ہے اور تعمیری احساس اجاگر کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ یہ ایسے لدنی حق کا ساتھ دیتا ہے جنہیں روح کے قائدین اور عقل وفکر کے معمار کہا جاتا ہے بجائے اس کے مادی قوتوں کو استعمال کرکے ملکوں کو فتح یا فوجی لشکر تیار کئے جائیں, اور اپنے ارد گرد تعمیر وترقی کا جال بچھایا جائے اور اپنے مددگاروں کو تباہ حالوں کی آباد کاری میں لگایا جائے۔ حق کے دوست شکر اور شوق کے متلاشی ہوں جو اپنے ارادوں کو مشیت ایزدی کے مطابق ڈھال کر اپنے فقر کو غنا میں اور اپنی عاجزی کو طاقت میں بدل دیں۔ جب تک وہ اس طاقت کا مناسب اور وفا واخلاص کے ساتھ استعمال جاری رکھیں گے وہ کبھی ناکام ونامراد نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ جب انہیں لگے کہ وہ شکست کھاچکے لیکن ایک فوج کے بعد دوسری فوج انہیں نصرت وکامرانی سے ہمکنار کرے گی۔

ایک فکر مند اور متحرک انسان کو آپ وطن عزیز کا سعادت مند بیٹا یا فکری خصوصیات کا حامل ایک عظیم سپوت, یا ہر فن مولا شخص, یا تخلیقی صلاحیتوں کا حامل, یا وطن کا مخلص یا ان سب صفات کا آئینہ دار پائیں گے۔ آخری زمانوں میں ان صفات کی نمائندگی کرنے والے بہت سے فکر مند ومتحرک انسان دکھائی دیں گے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ وہ فکر مند زیادہ تھے اور متحرک کم, اور بعض ایسے کی فکر اور تحریک میں برابر تھے اور بعض ایسے کہ ان کی فکری مندی پوشیدہ اور چھپی ہوئی تھی۔

استقامت کے حامل روشنی کا سرچشمہ ان افراد میں سے احمد حلمی فیلیبہ لی , مصطفی صبری , فرید قام , محمد حمدی یازر , بدیع الزمان سعید النورسی , سلیمان افندی, محمد عاکف او ر نجیب فاضل جیسے نابغہ روزگار شخصیات ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کے تاریخ ولادت وفات کا ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے , لہذا ان کی کاوشوں کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں تاکہ مضمون طویل نہ ہو :

احمد حلمی فیلیبة لی: آپ کی پیدائش بلغاریہ کے شہر فیلیبہ میں ہوئی, آپ کے والد سفیر تھے, آپ نے دینی ودنیاوی تعلیم سلطانیہ غلاطہ سرائے سے حاصل کی۔ پھر ازمیر رہائش پذیر ہوئے اور بیروت میں ملازمت کی۔ جہاں آپ کی ملاقات نواجوانان ترکی سے ہوئی جہاں آپ فیزان میں شمولیت کے بارے میں شش وپنج میں مبتلاء ہوئے۔ مشروطیت (بحالی دستور) کے بعد آپ کو استنبول بلا لیا گیا۔ آپ نے اسلامی اتحاد نامی تنظیم کا جھنڈا بلند کیا, اور اس مقصد کے لئے ایک رسالہ کا اجراء کیا, بعد ازاں روزنامہ اخبار الحکمت اور اس کے بعد اتحاد وترقی اور بعد ازاں کئی دیگر رسالے اور میگزین ... اور ایک عرصہ دار الفنون یونیورسٹی میں فلسفہ کے استاذ رہے۔ انہیں زہر دے کر ہلاک گیا جس کے بارے میں نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کے جانی دشمنوں نے یہ کام کیا۔

اس فکر مند اور متحرک انسان نے کئی ایک کتابیں اور قلمی کام ورثہ میں چھوڑا ہے جو تحقیق وتدقیق کا منتظر ہے۔

فرید قام:

استنبول کی عرفانی زندگی کا ادراک رکھنے والے عظیم فکر وذوق اور یکتا ونادر الکلام شخصیت کے حامل راہنما کے مختصر حالات زندگی درج ذیل ہیں:

فرنچ کے استاذ, فلسفیانہ سوجھ بوجھ کے حامل جس نے انہیں ایک عرصہ تک پریشان رکھا, اور پھر رحمت خداوندی کی بدولت تصوف کی طرف میلان پھر نئے سرے سے حسی وفکری استقامت۔ ان کے احساسات دو رسالوں ’’الصراط المستقیم’’ اور ’’سبیل الرشاد’’ میں شائع ہوتے رہے اس کے بعد ’’دار الفنون’’ اور ’’مدرسہ سلیمانیہ’’ میں ایک عرصہ تک مدرس رہے, اور ’’دار الحکمت الاسلامیہ’’ (کمیٹی برائے علمائے عظام) کے رکن بنے... کئی بار نوکریوں سے برخاست وبحال ہوئے, بارہا تنگیوں تکلیفوں اور دشواریوں سے دوچار ہوئے, اور ایک عظیم مفکر اور متحرک شخص کی طرح آخر دم تک اخروی زندگی کی کامیابی کے لئے ثابت قدم رہے۔ ان کی حیات مبارکہ کا احاطہ ایک جلد میں محال ہے۔ نسل نو کے نوجوان ان کے حالات زندگی اور کارناموں کو جاننے کیلئے ’’واردات’’ کا مطالعہ کریں جس میں ان کے بارے میں اور ان اقوال کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔

مصطفی صبری بیگ:

اناضول کے یہ فرزند حقیقی معنوں میں ایک مجاہد انسان تھے۔ ہم شیخ الاسلام مصطفی صبری کو ایک مجاہد اور متحرک شخص کے روپ میں پاتے ہیں, آپ مدرس اور مکتبہ سرائے کی ناظم مالیات, پارلیمینٹ میں اس کے نمائدہ میگزین بیان الحق کے چیف ایڈیٹر تھے ... اس کے علاوہ آپ جماعت (حریت وائتلاف) کے اس وقت تک ممبر رہے جب آپ نے معروف ومشہور معرکہ (بلند دروازے پر حملہ ) کے بعد ترکی کو خیر آباد کہا۔ اس متحرک شخص نے دیگر کئی اسلامی ممالک میں اور انتہائی نامساعد حالات میں بھی دینی خدمات جاری رکھیں, اور جب بھی موقع میسر آبا اپنے وطن لوٹ کر جہاد جاری رکھا... اور جب بھی حالات نے ساتھ دیا اپنے وطن کی خدمت پر کمربستہ رہے۔ آپ (دار الحکمت الاسلامیہ) اور (مشایخ اسلام) کے ممبر بنے۔ آپ نے آخری بار 1922 میں ترکی چھوڑ کر روم, اسکجہ اور پھر مصر چلے گئے... جہاں وہ آخر دم یعنی 1954 تک رہے۔ آپ کی زندگی جہد مسلسل اور جہاد کی شدید مشقتوں سے عبارت ہے ... وطن کے اس عظیم بیٹے کی زندگی شدید عذاب اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہی, ڈاکٹریٹ کے کئی مقالے ان کے اس اتار چڑھاؤ کا موضوع بن سکتے ہیں۔

احمد ندیم بابان زادہ:

بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام باشا عثمانی تھا۔ ہم عصروں کی طرح استنبول کے علمی سرچشموں سے سیراب ہوئے۔ احساس وفکر میں بے پناہ اور لا محدود وسعتوں کے حامل اس عظیم شخص کے مراحل زندگی میں سے : مدرسہ سلطانیہ غلاطہ سرائے اور مدرسہ الملکیت (ادارہ وسیاست), بعد ازاں وزارت خارجہ میں ترجمہ کے فرائض اور وزارت تعلیم میں ڈائرکٹر ایجوکیشن, دار الفنون میں مترجمین کونسل کے رکن اور ادب کےمدرس اور کچھ عرصہ کے لئے کالج وائس چانسلر رہے ۔

احمد نعیم ایسا چشمہ تھے جوترک معاشرہ کو فکری وروحانی سیرابی سےہمکنار کرتا رہا... اور آنے والی نسلوں کے لئے علم وعرفان کا ایک بیش بہا خزانہ چھوڑا۔

محمد عاکف:

وطن کا یہ مخلص اور نیک سپوت کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ اس کی حیات زندگی پر بیش بہا کتابیں لکھیں گئیں اور مقررین کی تقریروں کا موضوع رہا ہے ۔ اور اب تک بھی اس ایمان عشق جذبات , اس کے تحریکی خدمات اور تحریکی فکر کے بارے میں لکھا او رکہا جارہا ہے اور جاتا رہے گا۔ وہ ترکی کے ان تعلیم یافتہ شخصوں میں سے ہیں جنہوں نے اناضول اور روم ایلی (عثمانی خلافت کے وہ ممالک جو یورپ میں ہیں) اور عرب ممالک کے معرکے لڑے۔ اس وقت جب امیدیں دم توڑ گئیں اور حسرت اور ناامیدی نے ڈیرے ڈال دیئے, دل زخموں سے چور چور تھے اور ہر طرف خوف وناامیدی چھائی ہوئی تھی آپ ان چند ایک لوگوں میں سے تھے جو اپنے مشن پر سختی سے کاربند رہے۔ آپ تمام زندگی مخلص اور وفادار رہے : بیمار جانوروں کے ڈاکٹر, محقق, دار الفنون میں ادب کے مدرس اور صراط مستقیم او راس کے بعد دار الحکت الاسلامیہ میں نمایاں خدمات اور آزادی کی جنگ میں آپ کی تقریریں آپ کی عظیم خدمات ہیں۔

اس عظیم سپوت کی آواز نہایت بلند, صحابہ کرام y جیسا زہد وتقوی, جب آخرت کی طرف کوچ کیا تو فقیر تھے۔ ان دنوں کے منتظر جب اہل علم سے بحث وتحقیق کی وفا اور اپنے تحریکی وفنی کام , اور اس ضمن میں آج تک کی گئی کاوشوں پر شکرگزار۔

محمد حمدی یازر:

ایک معروف ومشہور شخصیت جسے دنیا جانتی ہے۔اناضول کے مضافات میں ایک چھوٹے قصبے المالی سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے دار الخلافہ استنبول آگئے۔ بطور خاص بڑے بڑے مشائخ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد امتحان الرؤوس اور مدرسہ نواب میں تعلیم حاصل کرکے مدرسہ الواعظین میں مدرس تعینات اور ازاں بعد درس عام کی جانب ترقی کی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں نمائدہ متعین ہوئے... سلطان عبد الحمید کی اجتہادی غلطی پر سبکدوش ہونے کے فتوے پر دستخط کئے... دار الحکمت الاسلامیہ کے ممبر رہے ... وزیر اوقاف بنے ... جمہوریت کے دور میں آزادی کے ظلم واستبداد کا شکار ہوئے جس کے بعد جلا وطنی کے غیر متوقع عذاب سہے, اس کے بعد ایک قابل فخر تفسیر تصنیف کی۔ آپ کی سیرت مبارکہ سے کشیدہ یہ چند خطوط ہے۔

علامہ حمدی یازر ایسے بلند پایہ شخصیت کے حامل ہیں جن کی نقش قدم پر چل کر ہم اپنی فکری اور تحریک کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔

نجیب فاضل:

اناضول کے شہر مرعش سے خاندانی تعلق تھا۔ لیکن استنبول سے تربیت وآداب سیکھے, یہی پیدا ہوا یہیں نوجوان ہوئے اور یہیں وفات پائی۔ امریکن کالج اور بحریہ سکول نے آپ کو سینے سے لگا کر آپ کی پیداواری صلاحیتوں کو اجاگر کیا یہ وہ دو چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہیں جن کی بدولت آپ نے چھلانگنا سیکھا۔ وہ مقامات جہاں آپ نے پڑاؤ کیا اور جلدی سے آگے چل دئے : دار الفنون کے قسم فلسفہ ہے۔اور باریس کی سوربون اہل مغرب کو سمجھنے کی ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے۔ بنک کی ملازمت آپ کو پسند نہ آئی اسے چھوڑ دیا۔ وہ پہلا مقام جہاں آپ نے ہر قابل اور نالائق میں اپنے فن کی روح پھونکی وہ (کونسرا فاتوار - انسٹیٹیوٹ برائے ملکی موسیقی) اور اکیڈمی فنون جمیلہ ہیں۔ آپ فکری مدرسہ (الشرق الکبیر) کے مالک تھے جس کا آپ نے کئی بار اجراء کیا, جب بھی پابندیاں لگیں دوبارہ شائع کردیتے۔ اور جب بھی شائع کرتے دوبارہ پابندی لگ جاتی۔ آپ ہی اس کے بانی اس کے معمار اور اکیلے ہی اس تنگی وعذاب سہنے والے تھے... آپ دور آخر کے شعر ونثر اور فکر فردا کے معمار تھے۔ صوفیانہ فکر مندی, ماورائی گہرائی اور تمام زندگی اس کا احترام , اور نبی خیر الانام e کی ذات بابرکات سے حد درجہ عشق آپ کی گہرائی کے سمندر کے وہ چند چھوٹے چھوٹے قطرے ہیں جو بلندیوں تک پھیلے ہیں۔ تمام اہل ترک اور تمام دنیا ان کی تعریف کرتی ہے , جس کے چند نمونے ہم نے یہاں بیان کئے, وہ ہمیں دوسروں کی نظروں میں عظیم اور قابل فخر بناتے ہیں۔ صاحب استطاعت لوگوں سے میری درخواست ہے کہ نجیب فاضل کے نام پر ایک مدرسہ بنائیں۔

سليمان افندي:

سلسترةہ کے معزز گھرانے کے چشم وچراغ تھے ۔ عالم دین اور عالم دین کے بیٹے۔ استنبول کے تعلیمی مراکز سے روحانی بالیدگی کے بعد اپنے آبائی وطن وفا اور خلوص کے مدرس بن کر لوٹے۔ آپ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے والے آپ کے عزیز واقارب نے آپ میں اور آپ کی گرد جمع ہونے والے طالبعلموں میں بھلائی کو پہچانا, اور آپ میں اپنا مستقبل اور اپنا پیغام محسوس کیا, اور آپ کے مشن کے ساتھ مل کر خوشی محسوس کی۔

سلیمان آفندی ایک ایسے بے مثال مجاہد تھے, جنہیں تحریکی کام نڈھال نہ کرسکا۔ آپ کی ساری زندگی اہل سنت والجماعت کی معطر ہواؤں کا جھونکہ رہی۔ آپ نے ان دنوں میں جب دینی فکر واحساس ڈگرگوں تھا نہ صرف دفاعی جہاد بلکہ ہر طرح کے جہاد کی طرف بلایا... آپ نے ہمارے روح پر دینی فکر اور دینی احساس کے روح پرور مناظر نقش کئے... آپ نے ملک کے کونے کونے میں تعلیمی حلقوں اور تعلیمی مدارس وقیام گاہیں قائم کرے ہمارے دلوں کو وجود کی اصلیت سے سیراب کیا۔ اور اس وقت تک جب تک آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز نہ کر گئی آپ اپنے مشن اور مقاصد پر سختی سے کاربند اور ڈتے رہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ چند سطریں یا کچھ صفحات میں آپ جیسے عظیم تحریکی شخصیت کو سمویا جا سکتا ہے۔اور نہ بڑی بڑی کتابیں اس روحانی ومعنوی شخص کی کما حقہ تعریف بیان کرسکتی ہیں۔ آپ نے رکاوٹوں کا سامنے کرتے ہوئے انتہائی قلیل مدت میں وطن عزیز کے کونے کونے میں علم وعرفان کے جال بچھائے۔ یہاں ہم نے اس کی ایک ہلکی سی جھلک دکھلائی ہے اہل علم وتحقیق سے امید ہے کہ وہ ان کی حیات طیبہ اور ان کی تحریک کام فکر وفلسفہ اور خدمات کا ضرور جائزہ لیں گے۔

جب ہم بیسویں صدی کے آخری پچاس سالوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم نور الدین طوبحی کو فراموش کردیں جو فرزند اناضول , عقل سلیم کا مالک اور عشق وحمیت کا پیکر, ہمارے بنیادی معیار سے متصادم اشیاء سے ہماری حفاظت کرنے والا.... ممتاز عقل اورگہری فکر کا حامل, صابر جیسے مرغی انڈے دے کر انہیں سیکنتی ہے۔ راہ میں ملنے والی رکاوٹوں اور زخموں کو مرجان مچھلی کی طرح سہنے والا۔ عظیم شاعر اور ادیب جسے نئی نسل نہایت ذوق وشوق سے پڑھتی ہے۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اسعد افندی کے احسان مند و شکر گزرا نہ ہوں... یا سام افندی کی عزت وتوقیر نہ کریں... حضرت ارواسی, علی حیدر افندی, محمد زاہد قوطقو, امام الوار, سید سردہل اور محمد راشد افندی کے عشق دینی حمیت اور تحریکی خدمات کو محسوس نہ کریں۔ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہم خاص کر بدیع الزمان نورسی کو یاد نہ کریں جس نے اپنی بے پناہ ایمانی فکر اور تحریکی کام سے دنیائے کفر والحاد کے منصوبوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا۔

آپ کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا۔ ساری دنیا نے آپ کے بارے میں بات کی۔ آپ ان چند ایک ابتدائی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں بہت سی زبانوں میں لکھا اور بہت سے ملکوں کے لوگوں نے آپ کے بارے میں پڑھا ہے۔ آپ کی اس سے مزید تعریف کیا کریں جو آپ کی کتاب کے مقدمے میں کسی نے آپ کے بارے میں ذکر کی[1]۔

بدیع الزمان سعید النورسی:

ایسی علامت جس کی ذات اور اس کی انسانیت پروری کے متعلق نہایت غور وخوض کی ضرورت ہے۔ وہ پہلے زمانے کی وہ شخصیت ہے جس نے نہایت صفائی اور پر اثر انداز میں عالم اسلامی کے ایمان اور اس کی معنویت اور وجدانی گہرائی کو فساحت کے ساتھ بیان کیا۔ ہمارا خیال ہے کہ آپ کی شخصیت اور افکار کو سمجھنے کے لئے آپ کی باتیں آپ کی معرفت, ترکہ اور آثار کی صحیح پہچان ہیں۔ آپ نے ہر دور کے عالمی سطح کے مسائل کا نہایت شجاعت اور بہادری سے سامنا کیا ہے ۔ آپ کی ساری زندگی انتہائی عشق اور دینی حمیت سے قرآن وسنت اور تجربہ ومنطقة کی روشنی میں منطقی وعقلی فیصلے سناتے گزری۔

بدیع الزمان نورسی کی بلند فکری , انسانی وسعت, وفاء, دوستوں سے اخلاص, معذرت خواہی,تواضع, کسر نفسی اور استغناء کے بارے میں قلموں سے بہت کچھ لکھا اور خطبوں میں سنایا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان تمام خصائل میں سے ہر ایک خصلت جو ان سے منسوب کی گئی یا جس کے بارے میں ان کے رسالوں میں بار بار اورتکرار کے ساتھ تذکرہ آیا ہے اس بات کی مستحق ہے کہ اسے پر ایک مستقل کتاب تحریر کی جائے۔ آپ کی اس حالت کے وہ لوگ گواہ ہیں جنہیں آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی, اور وہ آج تک زندہ وجاوید ہیں اور ہمارے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں۔

پہلی نظر میں دیکھنے سے بدیع الزمان نورسی ایک سادہ اور عام سے انسان دکھائی دیتے۔ لیکن فکری زندگی اور تحریکی کام کے حوالے سے اپنی ذات میں ایسے گر پوشیدہ رکھتے جو کسی دیگر میں اور کسی بھی زمانے میں ناپید ہوں۔ آپ انسانیت کے حولے سے تمام انسانوں کو گلے لگاتے, اور کفر ,ظلم اور گمراہی سے شدید نفرت فرماتے۔ او ر وفاء, مردانگی اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہر طرح کے استبداد کے خلاف لڑتے ہوئے موت کو گلے لگانے کے لئے تیار ہوجاتے۔ ایک احساس مندانہ زندگی بسر کی۔ اور اپنے پیغام کےعقلی ومنطقی فیصلوں میں کتا ب وسنت پر سختی سے کاربند رہے۔ آپ ہر وقت دو ظاہری صفات کا مظہر رہے ہیں۔ پہلی : صاحب وجدان, عشق وحمیت کی بے پناہ مثال,عظیم عزت نفسی اورمردانگی والے۔ اور دوسری: انتہائی متوازن مفکر, اپنے ہم عصروں سے رائے اور بصیرت میں سب سے آگے, ایسی عقل سلیم کے مالک جو کئی طرح کے منصوبے اور پروگرام بنا سکے۔ اس لحاظ سے بدیع الزمان اور ان کی دعوت کو اس لحاظ سے سمجھنا کہ ہمارے دور حاضر کی ایک ضرورت ہے نہایت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ یہ اسلام کی عظمتوں کے امینوں کو سمجھنے کا ایک سلسلہ ہے۔

کچھ لوگ جتنا چاہے صرف نظر کرلیں یا بھلالیں, بدیع الزمان ایک مفکر اور ادیب ہونے کی حیثیت سے اپنے ہم عصروں میں سب سے نمایاں ہیں, آپ نے عام لوگوں کی ترجمانی اور راہنمائی کی, لیکن آپ کبھی خود پسندی کا شکار نہ ہوئے, نہ ہی آپ کبھی ریا یا دکھلاوے کے طلبگار, اور نہ ہی کبھی تکبر آپ کے قریب بھٹکا۔ آپ کا ایک سنہری قول جس میں آپ نے فرمایا: (شہرت ریاء کا سرچشمہ ہے اور ایسا زہر آلود شہد جو دل کو مار دیتا ہے)۔ تاریخ ہر دور میں اور ہر طبقہ فکر میں ایسے لوگوں کی بدولت عالم اسلامی کے جہاں میں داخل ہوتی ہے جو مشہور ادیبوں کی کتابوں کی روشنی میں بلندیوں کے زینے سر کرتے ہیں, جن کی ٹہنیاں کبھی خزاں رسیدہ نہیں ہوتیں۔

بدیع الزمان کی جملہ تصنیفات ایک جانب تو ان محنتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہیں جن میں آپ نے اہل رائے وبصیرت کے لئے حالات حاضرہ کے درپیش مسائل اور مشکلات کا حل پیش کیا ہے ۔ تو دوسری جانب یہ اناضول اور پھر عالم اسلامی کو بیدار کرنے کی ایک آواز ہے جس میں کہیں تو دکھ درد اور آہو زاری ہے اورکہیں امید شوق اور خوشی کی نوید ہے۔ اگرچہ نورسی مشرقی شہروں کے ایک دور دراز گاؤں میں پیدا ہوئے لیکن آپ نے ہمیشہ اپنے اندر اناضولوں جیسا درد اور استنبول کے سرداروں جیسی تڑپ محسوس کی, اور وطن اور اہل وطن کو انتہائی شفقت اور گہرے خلوص سے ہمیشہ سینے سے لگایا۔

بدیع الزمان نے پے در پے مصائب اٹھانے والے دکھی انسانوں کو سبزہ اگاتی راہیں دکھلائیں, اور اس بد بخت زمانے میں جب مادی فکرمندیوں نے ہمیں ہر سمت سی گھیر لیا, اشتراکیت کا جنون سوةار ہو گیا او ردنیا ضیاع, ظلمت اور مصائب میں مبتلا ہوگئی تھی آپ جہاں گئے اور جہاں رکے اپنی ایمان و امید آور تصنیفات کے ذریعے تمام انسانوں میں دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی روح پھونکی۔ آپ نےکفر اور الحاد سے پھوٹنے والی بیماری کا ادراک کیا اور دواء تشخیص کی,اور اس کے سامنے ڈٹ گئے... اور پوری زندگی انسانوں کو زمانے کی اس بیماری کے خلاف تیار کرتے رہے... اور انسانی طاقت سے بڑھ کر اس کا مقابلہ کیا۔ بدیع الزمان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ تھے۔جب آپ نے کوہ قاف سے بھی گراں یہ ذمہ داری حق تعالی شانہ کی قدرت کاملہ اور لا متناہی طاقت کی مدد سے سنبھالی تو آپ کی کمر تواضع,کسر نفسی اور حیاء سے مزید جھک گئی۔

بدیع الزمان نے ایک طبیب حادق ہونے کی حیثیت سے ہماری داخلی لغزشوں اور روحانی محکومیت, ہمارے ذاتی جرائم اور خود غرضیوں کی نشاندہی کی۔ اور بلندیوں کے طالب ہمارے دلوں میں روحانیت و وجدان کے پے درپے سانس پھونکے اور ہمارے سامنے اخروی زندگی کے مقاصد اجاگر کئے, اور ہمارے لئے مدارس ومراکز کا جال بچھایا... ان تاریک دنوں میں جب الحاد وبے دینی نے فنون اور فلسفہ کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا تھا, اور اشتراکیت کے لئے ذہن سازی کی جار ہی تھی , جس کی وجہ سے آپ کو جلاوطنی اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا, اختیارات کے شرمندہ کن استعمال عام ہوگیا, حیرت تو اس بات کی ہے کہ یہ سب کچھ تہذیب وتمدن کے نام پر تھا, یہاں تک کہ نظریہ عبث نے ساری دنیا کو آگ کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

جی ہاں نورسی فتنوں اور فساد کے ان دنوں میں جب عوام فکری کمزوری اور اجتماعی غموں سے دوچار تھے, اور ملک بھر میں ان پر مصائب وآلام کے سینکڑوں پہاڑ سوار تھے اور اسلامی اقدار کو روندا جارہا تھا آپ ایک فکر مند طبیب , حل کے متلاشی, بیماریوں کی تلاش وتشخیص کرنے اور پھر ان کی دوا دینے والے کے روپ میں نمودار ہوئے۔ ابتداء ہی سے آپ نے انتہائی سخت اور فکرمند زندگی بسر کی جس میں آپ ملک اور قوم کے لئے متبادل حل تلاش کرتے اس عظیم لیکن بد قسمت قوم اور بلند لیکن جلد غروب ہونے والے ملک کو اس کے روشن ماضی کے اسباق یاد دلاتے۔ جب بھی آپ اپنی قوم اورملک کو گزشتہ کئی سالوں سے ملنے والے مصائب ومشکلات میں گھرا پاتے , انہیں پستی وگمراہی اور شک میں سرگرداں اور اس سے نکلنے کی کوشش میں مزید گہرائیوں میں گرتا دیکھتے تو آپ بہت رنجیدہ اور بے حال ہوجاتے اور ہر اٹھنے والی آواز پر توجہ دیتے۔

خلافت عثمانیہ کے دنوں میں بدیع الزمان وطن عزیز کے بڑے بڑے شہروں, چھوٹے چھوٹے قصبوں, گنجان آباد اور کم آباد علاقوں میں پھرے, آپ جہاں بھی گئی لوگوں کو جہالت غربت اور افلاس اور فرقوں میں تقسیم میں ڈوبا ہوا پایا تو آپ بہت خوفزدہ اور پریشان ہو گئے۔ اورمفکر اور حالات سے باخبر انسان ہونے کے ناطے آپ نے ان علم کے ان پیاسے انسانوں کی پیاس بجھانے کا ارادہ کیا۔ اور فقر وفاقہ اور اقتصاد کی جانب متوجہ ہوئے۔ تفرقہ بازی کے اسباب کا حل تلاش کرنے لگے اور ہر جگہ ہر وقت ہماری وحدت کا بول بولنے لگے... اور اپنی عادت کے مطابق سختی کے ان دنوں میں نوجوانوں کو کسی لمحے اکیلا نہیں چھوڑا۔ آپ جہاں بھی جاتے بلند آواز سے کہتے : اگر ہم ابھی سی اپنی بیماریوں کا علاج نہیں کرواتے اور اپنے زخموں کو ماہر جراحوں سے کٹ نہیں لگواتے تو ہماری بیماریاں ایسی بیماریاں بننے والی ہیں جو لاعلاج ہوں , ہمارے زخم ایسے بننے والے ہیں جو کبھی نہ بھریں۔ ہمیں اپنی علمی اجتماعی اور انتظامی بیماریوں کا علاج تلاش کرنا ہوگا اور اپنے مادی ومعنوی مشکلات کا حل تلاش کرنا ہوگا, تاکہ ہم ان مصائب میں دوچار نہ ہوں جو ہمیں ہر روز ایک گہری کھائی میں دھکیلے اور ہمارے وجود کو نگل لے اور ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر دے۔

نورسی کی رائے میں - آج کی طرح کل بھی - تمام برائیوں کی جڑ جہالت , غربت اور فرقہ واریت ہے ۔ جہالت ہماری اجتماعی پستی کا پہلا سبب اور ہماری ذلت کا مقدمہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کل کی طرح آج بھی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ذات باری تعالی کو بھلا دینے اور نبی کریم کی تعلیمات کو فراموش کردینے اور دین سے تعلق ختم کرلینے اور اپنے مادی ومعنوی تاریخی محرکات سے بے بہرہ ہونے میں ہے۔ بدیع الزمان نے اپنی زندگی انہیں قاتل جراثیم کے خلاف جہاد میں گزار دی۔ جب تک سب لوگ علم وعرفان کے نور سے منور نہ ہوجائیں, اور جب تک معاشرہ مل کر سوچنے کا عادی نہ بن جائے, اور جب تک غلط اور گمراہ کن افکار کا راستہ نہ بند کر لیا جائے نوجوانوں کے چھٹکارے کے بارے میں سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیا یہ جہالت ہی نہیں جس نے کائنات کا تعلق قرآن کریم سے اور قرآن کریم کا تعلق کائنات سے توڑ دیا ہے؟ اس تعلق کے ٹوٹنے کی وجہ سے ان متعصب لوگوں میں جو وجود کے اسرار سے بے خبر اور اشیاء اور حوادث میں گم ہیں کے ہاں ان دونوں میں سے ایک یتیم ہو کر رہ گیا ہے۔ اور ہر چیز کو مادہ میں تلاش کرنے والوں اور معنوی حقیقت سے اندھے لوگوں نے ان دو میں سے دوسرے کو عبث اور بے فائدہ چیز سمجھ لیا ہے۔ کیا یہ جہالت ہی نہیں جس نے اس ملک کو غربت وافلاس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے, اور انہیں یہ غلہ اگاتے کھلیان, دولت سے مالا مال پہاڑ اور میٹھے پانی کی نہروں کے ہوتے ہوئے سامنے والے دروازوں کے خادموں کا بھکاری بنا دیا ہے۔

اور کیا اب ہم اس جہالت اور غربت کے سبب افلاس اور در بدر کی زندگی نہیں گزار رہے۔ ان بھاری قرضوں کے بوجھ تلے جنہوں نے ہماری کمر کو جھکا دیا اور ہماری پیٹوں میں بھوک بھر دی ہے۔ اور ہمارے یہ زیر زمیں معدنیات اور ہمارےبے شمار قیمتی خزانےغیروں کے خزانوں میں ڈالے جا رہے ہیں۔

یہ مصیبت کئی سالوں سے ہمارے لوگوں کے لئے عذاب بنی ہوئی ہے۔ مزدور اور کسان بے انتہا محنت اور مشقت برداشت کرتے ہیں اور پھر انہیں ان کی محنت اور مشقت کچھ پھل نہیں ملتا, اگر مل بھی جائے تو اس میں کوئی برکت اور سعادت نہیں, اور وہ قہر اور شقاوت کے خوف سے ایک ایک چیز چھپائے پھرتا ہے۔

جہالت سے پیدا ہونے والی ناسمجھی اور فرقہ واریت کی بدولت ہم سے مربوط عالم جہاں کہیں بھی ہے قہر , غلامی, محکومیت, ذلت اور طرح طرح کے مصائب وامراض میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ اور خون میں ڈوبا ہوا ہے, عزتوں کو لوٹا اور مقدسات کوروندا جا رہا ہے۔ اور اپنا حقیقی توازن اور معیار کھو کر گردش دوران کا پہیہ کبھی دائیں طرف جاتا ہے اور کبھی بائیں طرف۔ بلکہ آج دن بدن ہولناک اور مایوس پستیوں میں گرتے عالم اسلام کو بچانے کا کوئی وسیلہ کارگر نہیں رہا , نہ ہی ہم متحد ہونے کو تیار ہیں اور نہ ہی زمانے سے اپنا حساب برابر کر سکتے ہیں۔

امت پر مسلط کئے جانے والی دردوں کے زخموں کو گھونٹ گھونٹ پیتے ہوئے, ایک قوم کی آنکھیں اہل مغرب کی صوری ومادی ترقی کی چکا چوند سے خیرہ ہوگئیں اور سر چکرا گئے, اور اپنی اندھا دھند تقلید اور بے روح وبے احساس تصرفات کی بدولت قوم کے اندر سے ملی اوصاف نوچ کر انہیں تاریخی ا حساس سے بے بہرہ کرکے ان کے اخلاق اور فضیلت کو چھین لیا ہے بجائے اس کے وہ مادی ومعنوی ترقی کے حصول کی خاطر تجرباتی علوم سے اپنے دماغوں کو آراستہ کرتے اور اپنے دلوں کو دینی حقائق سے روشناس کراتے۔

میرے نزدیک یہ پہلی راہ جس پر وہ عوام کو بچانے کے نام سے نکل کھڑے ہوئے ہیں نے معاشرے کو بہت بڑے نقصان میں گرفتار کر لیا ہے اورمعاشرے کی روح پر ایسے کاری زخم لگائے ہیں جو کبھی مندمل نہ ہوں گے۔

مذکورہ بالا دوسری حالت یہ ہے کہ ہم سالہا سالوں تک دکھوں میں مبتلا رہیں گے۔ لیکن پہلی حالت اختیار کرنے سے ہمارا ملی تشخص کا محل اور ہماری روحانی شرافت اور ہمارا عالمی تحریکی کام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔

بدیع الزمان نے دونوں حا لتوں میں علاج بتایا ہے اور ان معاشرتی پیچیدگیوں کا ازالہ کیا ہے جن کی وجہ سے اس علاج میں غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اور اپنی جراحی چھری سے صدیوں پرانی زخموں کو چاک کیا ہے اور چھان بین کرکے پیپ پڑنے کے اسباب کی تشخیص کی ہے۔ وطن کی حفاظت اور عوام کو تباہی وبربادی سے بچانے کی خاطر اس عظیم قومی فرزند نے بار بار اور تکرار کے ساتھ اس کے اسباب کی نشاندہی کی, اور کسی سستی کے بغیر ہمارے لئےدوا تجویز کی۔ اور اس مشن میں اپنی تمام زندگی جینے سے لے کر مرنے تک دلی سچائی اور اخلاص کے ساتھ اور ببانگ دہل اوردھیمے الفاظ میں سستی کئے بغیر گامزن رہے۔ ماضی کی موروثی مفید ومضر عادات و اطوار تصورات اور راسخ نظریوں کو نکالنے کی نسبت لوگوں کے ذہنوں میں جدید افکار کی افزائش ایک مشکل کام ہے۔ ماضی اور حا ل میں لوگوں کا اس ورثے (مفید ہو یا مضر )کی جانب میلان رہا ہے, اور اسی وجہ سے وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اس کے رنگوں میں رنگ لیتے ہیں, اور جو چیز ان کی عادات واطوار سے مطابقت نہ رکھے اس سے وہ دور بھاگتے ہیں۔ کبھی یہ شعور اور سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے اور کبھی صحیح بھی۔ اگر ایسا ہو جائے کہ غلط سوچیں اور عادات عام لوگوں اور معاشرے میں مقبول اور راسخ ہوجائیں اورمعاشرہ انہیں اپنا لے, اور ان کی جڑیں پختہ ہو جائیں اور زندگی کے تنوں پر شاخیں اور ٹہنیاں اُگ آئیں, تو عوام کے روشن مستقبل کے لئے لازم ہے کہ ان جڑوں کو کاٹ دیا جائے اور ان انحرافات کا خاتمہ کر دیا جائے۔اور دیمک زدہ تنوں کو عام افکار اور وجدان کی بدولت اچھے سے مزید اچھے کی جانب چلایا جائے تاکہ فاسد مادوں کا تصفیہ کرکے صالح مادوں کو ان کی جگہ دی جائے۔

بدیع الزمان زمانہ نوجوانی سے ہی اسی طرح کی سوچوں اور افکار کے مالک تھے۔ ان کے ہاں ایک معمولی سی بات کو بھی اہمیت نہ دینا اپنے ملک اور عوام سے غداری کے مترادف تھا, آپ عوام کو تباہی کے دھانے لے جانے والی افکار وفیصلوں کو روکنے کے لئے اپنے دونوں بازو پھیلا کر کھڑے ہوگے, اور بلند آواز سے پکارنے لگے : رک جاؤ ... یہ راستہ بند ہے!آپ کی فطرت سلیمہ ہر غلطی اور اسلامی اقدار سے منافی چیزوں کے خلاف تھی۔ آپ انتہائی عالی ہمت اور بلند حوصلے کے مالک تھے۔ لہذا امت کی تباہی وپستی سے صرف نظر یا چشم کوشی آپ جیسے شیر دل کی طبیعت سلیمہ کے خلاف تھا۔ آپ نے امت کو اس کے ہر چھوٹے بڑے قصوروں , عیبوں, اور آزمائش ومصائب کے تمام اسباب سے باخبر کیا۔ اور بلا ہچکچاہٹ اس پستی کے اسباب اور ان سے خلاصی کی راہیں بتلائیں۔اور بلا کسی تاخیر کے حقائق کو آشکارا کیا... وہ غلط سوچوں اور متعفن افکار اور کفر والحاد کے خلاف سینہ سپر ہوگئے۔ اور حقیقی نور کو چھپانے والے رکاوٹوں کے خلاف پوری زندگی جہاد میں مصروف رہے۔

نورسی انتہائی نامساعد حالات میں جب لوگ خوف اور ڈر کیوجہ سے حقائق کو بیان کرنے سے کتراتے اپنے مشن پر ڈٹ گئے ۔ آپ نے لوگوں کو بیداری کا سبق دیا, اور جہالت غربت اور فرقہ واریت کے خلاف اعلان جنگ کیا, او رمعاشرے کے سینوں میں پیوست وہم کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ وطن عزیز کے طول وعرض میں الحاد اور انکار الوہیت کے خلاف جہاد شروع کیا, اور باطل اور خرافات کا گلا گھونٹا۔ اور ہمارے غموں اور ان کے علاج کے لئے ایسی جرات رندانہ کا مظاہرہ کیا کہ عقلیں دنگ رہ گئیں۔ آپ ریا , دکھلاوے اور تکبر کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر ایک انسان کو مخاطب کیا چاہے وہ حکومتی اہلکار ہوں یا مشرقی ترک کے خانوادے, علمائے اسلام ہو یا فوجی حکمران۔ جب آپ نے مخاطب کیا تو دنیا بھر کی نظریں آپ پر ٹک گئیں۔ اگرچہ آپ کی فطرت اس خودنمائی کو پسند نہ کرتی لیکن آپ کی ذمہ داریوں کا تقاضا یہی تھا۔

نورسی نے متنبہ کیا کہ اگر ہم جہاد پر مداومت کا ارادہ کرتے ہیں تو میانوں سے تلواریں نکالنے سے قبل ان طوقوں کو توڑ ڈالیں جنہوں نے ہماری افکار اور روحوں کو غلام بنا رکھا ہے۔ اور نوجوانوں کی اسلامی افکار کی روشنی میں (موت کے بعد دوبارہ جینے کی سمت) راہنمائی فرمائی ۔آپ کو وطن عزیز کی تقسیم اور جغرافیائی حدود کی تبدیلی اور سکڑ جانے سے از حد خوفزدہ تھے لیکن وہ اس سے بھی زیادہ خوفزدہ وہ تنگ فکری روحوں کے ملال اور مغرب کی تقلید وشکل وشباہت کو اپنانے پر تھے۔

نورسی پڑھنے سوچنے اور کام کرنے کے اصرار سے کبھی مایوس نہیں ہوئے, اور نہ ہی نوجوانوں کو انفرادیت سے بچانے اور ایک مثالی معاشرہ اور خوشحال نوجوان کی کوششوں میں لاپرواہی نہ برتی۔ آپ ہمیشہ تعلیم وتربیت اور عرفان پر زور دیتے۔ آپ ہر جگہ اور ہر صورت تعلم وتربیت اورمعارف کی نشر واشاعت پر زور دیتے۔ آپ مساجد ,مدار س, چھاونیوں, راہگزروں ,سیر گاہوں بلکہ جیل خانوں میں بھی تعلیم عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے۔ صرف معارف سے ہی عقلی ومنطقی وحدت کا شعور ممکن ہے۔جو لوگ عقلی اتحاد کرکے خود کو اس میں نہیں ڈھالتے وہ زیادہ عرصہ تک ایک متعین راستے میں نہیں چل سکتے اور اپنی مدد اور تعاون کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ سب سے پہلے شعوری ةوحدت ضروری ہے, تاکہ دل اور ہاتھ بھی متحد ہو سکیں۔ اور یہ وحدت تب ہی متحقق ہو سکتی ہے جب ہم زندگی کو اسلامی قوانین وضوابط اور زمانے کے متعلق جملہ امور کی تفسیر کتاب وسنت اور سلف صالحین کے اجتہاد کے مطابق کریں گے۔

جی ہاں, ہمیں اپنے زمانے کے انسان کو , زمانے کی امنگوں کو , اس کے معانی اور تفسیر کو پہچاننا ضروری ہوگیا ہے, تاکہ ہم اس میں کامیاب اور اس کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ اپنی کھالوں میں واپس گھسنے اور انفرادیت میں ڈوب جانے میں ہماری موت ہے , اوردنیا اپنی چال چل رہی ہے۔ جو لوگ اپنے حاضر کو زندہ کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زندگی کی آبشاورں میں اور ذاتی ارادوں, کوششوں اور محنتوں میں اتفاق , الفت اور تعاون کو زندہ کریں۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو کائنات کی راہوں پر گم ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

اگر چند سو علمائے کرام بدیع الزمان کا اس وقت ساتھ دیتے جب وہ ملک کے گلی کوچوں میں اپنا پیغام پیش کرتے سرگرداں پھر رہے تھے, تو شاید ہم آج دنیا بھر میں سب سے مالدار ہوتے, اور تہذیب وتمدن میں سب سے آگے ہوتے, اورشاید ایسی طاقت کے ما لک ہوتے جس راہ میں آنے والی مشکلات سے نپٹ سکتے۔ تو ہم ان نورانیت کی راہوں کے راہی ہوتے (جن پر گویا ہم آج چل رہے ہیں) بیسویں صدی کی ابتداء سے گامزن ہیں, اور آج ہماری مشکلات کم ہوتیں۔ ان ساری چیزوں کے باوجود آج ہم خوش بخت ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کی سوچوں کے چشمے بالکل سوکھ چکے ہیں وہ غفلت اور بے خبری میں ہیں۔ جی ہاں, اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہم بھی ایسے ہی گرے ہیں جس طرح دوسری قومیں گری ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارا قد آور ہونا اور اپنی عزت بحال کرنا بھی ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن ہیں۔ اور ہمیں اپنے دور حاضر میں بیداری کی روشنیوں کے ایسے چراغ دکھائی دے رہے ہیں جو ہماری قدیم آرام پرستی کی جگہ لے رہے ہیں۔ جس کی بدولت راحت اور سستی میں ڈوبی ہماری زندگیوں میں حرارت اور بیداری کی لہر جاری ہوگی۔ اس تبدیلی کی بدولت وہ روشن دن آنے کو قریب ہیں۔ لیکن ہمیں ایسے لوگوں کا انتظار ہے جو اٹھ کھڑے ہوں اور وادیوں میں سبزے کی طرح پھیل جائیں اور حضرت الیاس کی طرح بلا خوف وخطر اپنی سواریوں کو سہوب میں ڈال دیں۔ بدیع الزمان اسی راہ کی ایک اہم نشانی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سمجھدار آدمی اختیار نہیں کرتا۔ مطلب یہ کہ عقلمند آدمی یہ نہیں کہتا کہ میں یہ کروں گا اور وہ نہیں کروں گا, یا یہ نہیں کہتا کہ یہ کام مفید ہے اور یہ کام مضر۔ کیونکہ وہ خارق العادات صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے جس کی روح میں ایسی خدائی طاقت ہوتی ہے جو کئی طرح کے امور کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی بدولت وہ ظاہری , باطنی, روحانی اور اجتماعی حاجتوں کو سینے سے لگانے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ جو شخص نورسی اور ان کی تصنیفات میں غور وفکر کرے گا وہ انہیں سمجھداروں کے لئے جامع ومانع پائے گا۔ وہ دیکھے گا کہ کس طرح انہوں نے اپنے بلند مقام کی حفاظت کی اور ایسی بات کی جو ہر زمانے میں معقول رہی, چاہے وہ ان کی اوائل عمری میں لکھی جانے والی کتابیں ہوں جو ان کی عقلمندی کی پہلی سانسیں تھیں جو انہوں نے اپنے ارد گر پھیلائیں یا وہ کتابیں جو انہوں نے اپنے بڑھاپے کے ان ایام میں لکھیں جن میں کبھی عدالتوں کبھی جیلوں اور کبھی ملک بدری جیسے مصائب سے دو چار تھے۔


[1] - بدیع الزمان سعید النورسی کی کتاب مثنوی العربی النوری کے مقدمہ میں ملاحظہ ہو۔

 
اگلا >