*

عظیم محقق، مفکر اورعلام

محمد فتح اللہ گلین مشرقی ترکی کے شہر ارض رو م میں ہوئے ۔آپ ایک مذہبی سکالر ،مفکر ،ممتازایل قلم اورشاعر ہیں ۔ انہوں نے مذہبی علوم میں بہت سے قابل ذکر مسلم علماء اور روحانی پیشواؤں سے تربیت حاصل کی ۔گلین نے جدید معاشرتی اورطبعی علوم کے اصول وضوابط اورنظریات کا بھی عمیق مطالعہ کیا۔علم وفضل میں غیر معمولی مہارت اورذاتی مطالعہ میں ارتکاز کی بناپر وہ جلد ہی اپنے ہم عصروں سے آگے نکل گئے ۔1958ء میں زبردست امتحانی نتائج کے حصول کی وجہ سے انہیں ریاستی مبلغ کا اجازت نامہ دیا گیا اور جلد ہی ترکی کے تیسرے بڑے صوبے ازمیر...
فکری وتحریکی کام PDF پرنٹ کریں ای-میل
تحریر Administrator   
27.03.2008

زمین کے وراث کیلئے ہماری کوششوں کا خلاصہ دو لفظوں یعنی فکر اورتحریکی کام میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ہمارا حقیقی وجود اسی فکری اورتحریکی کام کی راہوں سے ہو کر گزرتا ہے ... فکری وتحریکی کام نام ہے اپنی ذات اور دوسروں کی تبدیلی کا۔ دوسرے لفظو ں میں, ہر وجود اسی اجتماعی تحریک اور تنظیم کا مرہونِ منت ہے اور وجود کی بقاء اسی تحریک وتنظیم کی بدولت ہے۔

تحریکی کام ہماری زندگیوں کی ایک سخت ضرورت اور نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے لئے انتہائی نامساعد حالات میں اس کی اہمیت کا خیال کرتے ہوئے ہمیشہ متحرک رہنا, تاکہ ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھ سکیں اور مسائل کے لئے مسلسل تحریکی وفکری کام کے لئے تیار رہیں, اور اس کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ اگر ہم متحرک نہیں رہیں گے تو دوسرے لوگوں کے فکری حملوں کا شکار ہو کر ان کی تحریکوں کا نمونہ بن جائیں گے۔

دائمی سکوت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد رونما ہونے والی تبدیلیوں سے صرف نظر کریں اور ارد گرد کے ماحول میں عدم شمولیت کے باعث اپنی ذات کو پگھلنےکے چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو چمڑے کے ایک ٹکڑے کی مانند پانی کی سپرد کردیں۔ پگھلتے پگھلتے ہم اپنی ذاتی جزئیات کی حفاظت سے لاچار ہوجائیں یعنی اپنے آپ کو ایسی صورت اور حادثات کے حوالے کرنا جو ہماری ذات کے مخالف اور ہمارے جوہر سے متصادم ہوں۔ اپنی ذات کے وجود کو برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کو اپنی خواہشوں, اپنے میلان, اپنے دلوں, اپنے وجدان, اپنی تحریکوں اور افکار میں اجاگر رکھیں, کیونکہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے اس کے بارے میں فکر مند رہنا ضروری ہے۔ جی ہاں, وجود کی پیدائش اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے انسان کے پاس کلائی, بازو , دل اور سر کا ہونا ضروری ہے۔ اور اگر آج ہم اپنے دلوں اور سروں کو اپنے وجود کے لئے استعمال میں نہیں لائیں گے تو دوسرے لوگ ایسے مقاصد کے لئے انکا استعمال شروع کردیں گے جس میں ہمارا قطعاً کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

اسلامی تحریک اور اسلامی فکر کی اہم خصوصیات یہ ہیں کہ ہمارا وجود ہمارا ہی ہو,اورہم اپنے مقاصد کو تمام عالم کے مقاصد اور انکی ضرورتوں کے مطابق تشکیل دے کر اپنی تحریک کا ایک راستہ منتخب کریں اور کائنات کے جملہ رستوں میں سے اس راستہ پر گامزن رہیں (اور کائنات کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے ہم اپنے خاص راستے کی حفاظت کریں) ۔ جو شخص اپنے وجود کو عالم سے جوڑ کر نہ رکھے اور کائنات کے ساتھ اپنے تعلقات کا ادراک نہ رکھے, اور عالمی حقیقتوں کا سامنا کرنے میں اپنی ذات اور جزئیات کو فوقیت دے, تو وہ اپنی ذات کی جڑوں کو وجود سے کاٹ کر, انہیں اکھیڑ کر خود کو انانیت کے جال میں گرفتار کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں انسان کو وجوةد سے منقطع کرنے والی اور اسے ذات کے چنگل میں قید کرنے والی چیزیں : بدنی شہوت, اطراف جسم میں وقوع پذیر نزاع ہیں, ہر وہ دماغ جو سوچوں اور نظریات سے عاری ہوگا وہ شہوات بدنیہ اور نزاعات جسمانیہ کا شکار ہو جائے گا۔ متحرک اور حقیقی فکرمند شخص کے لئے یہ دنیا اور اس دنیا میں انسان کی نیک بختی ہمیشہ رہنے والی عالمی رنگینیوں کی حامل ہے۔ گویا اس کی زندگی کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا, یا یوں سمجھیں وہ ہمارے تصور سے ما وراء ہے۔ ’’نیک بخت انسان’’ کہتے ہی ہمیں ایسے لوگوں کی یاد آجاتی ہے۔ اور کیا جس کی کوئی ابتداء یا انتہاء ہو اسے نیک بختی کہا جا سکتا ہے۔

تحریکی کام (فضیلت کے اعتبار سے) یہ ہے کہ انسان سچائی اور خلوص کے ساتھ تمام وجود کو سینے سے لگائے۔ پھر اپنی ذکاوت, پختہ ارادے اور اپنی لامتناہی قوتوں کو دنیا کے اس عظیم تخلیقی مقصد کے مطابق ڈھال لے۔

فکر ایک داخلی تحریک کا نام ہے۔ ایک منظم اور باہدف فکر درحقیقت کائنات کی ان خفیہ اشیاء کو جاننے اور اس کا جواب طلب کرنے کا نام ہے جن کا ہمیں من حیث الوجود سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے : ذات اور وجود کے مابین تعلق قائم کر کے ایسے شعور کو فعال بنانا جو ہر ایک چیز کی زبان میں اور ہر مکان کی حقیقت کو تلاش کرے۔

روح انسانی کا جہان سے رابطہ او رتعلق فکر ہی کی بدولت ہے, اور بدستور اس کی ذات اور نفس میں سرایت کرتا رہتا ہے۔ اور تنگ عقلی کو پارہ پارہ کردے تاکہ وہ باہر نکل کر بہ جائے, اور روح کی گہرائیوں میں چھپے توہمات سے آزاد ہو ... اورآزاد ہو کر ان حقائق سے موافقت اختیار کرلے جو نہ کبھی بھٹکیں اور نہ ہی گمراہ ہوں۔ دوسرے لفظوں میں, فکر نام ہے انسان کے اندر کو خالی کرکے ماورائی تجربات کے لئے مکان کشادہ کرنے کا۔ یہ سوچ کی پہلی سیڑھی ہے۔ اور اس کی آخری سیڑھی تحریکی فکر ہے۔

دعوت وفکر سے بھر پور زندگی کی تحریک دراصل ہماری روحانی زندگی کی تحریک ہے... اور تحریک بھی ایسی کہ روحانی زندگی کو دینی فکر سے جدا کرنا ناممکن ہو۔ ہمارے نوجوانوں میں وجود اورحضور کے تمام جھگڑے اسلامی روح اور معانی کی طرف رجوع کرنے میں ہیں۔ اور جب بھی اسلام کی جانب توجہ دی ذات میں پوشیدہ خزانے ظاہر ہوئے , جیسے بیج مٹی میں مل کر خوشہ میں تبدیل ہوتا ہے یا کلی تب کھلتی جب اسے روشنی ملے۔ توجہ اور ذات تک کی یہ رسائی جوہر میں پوشیدہ استطاعت کی وسعت اور بڑھوتری کا موجب ہے, اور اس کے وجود اور بقا کی ضامن ہے۔ جس طرح عبادت اور ذکر وفکر قلب وروح کو زندگی کے معیار میں ڈھالتی ہے, اسی طرح پورے وجود میں اس کی سرایت عبادت کے شعور اور ذکر وفکر کی کوشش سے مربوط ہے جسے نبض دیکھ کر ٹٹولا اور عقل کے ایک ایک حصے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ایک سچے مومن کا ہر ایک عمل عبادت, اس کی ہر ایک سوچ مراقبہ, اس کے منہ سےنکلنے والا ہر ایک کلام ایک مناجات اور معرفت کا آئینہ دار, وجود کا ہر مشاہدہ ایک جانکاری اور تحقیق اور اہل وطن کے لئے ہر ایک کوشش شفقت ورحمانیت کی آئینہ دار ہے۔ رحمانیت کے اس معیار تک پہنچنے کے لئے حسی شعور اجاگر کرنے پھر باتوں اور اعمال میں اسکااظہار اور اس کے بعد الہام اور الہی معجزات کا ظہور ہے۔ بالفاظ دیگر, بلند مقام تک رسائی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک عقل کو تصفیہ کے مراحل سے نہ گزارا جائے, اور جب تک عقل نفس کو عظیم سوچ کا آئینہ دار نہ بنا لے اور جب تک زبان سےمحبت کے بول نہ نکلیں اور جب تک محبت عشق خداوندی میں نہ ڈھل جائے, اگر یوں ہو جائے, تو علم دین کا آئینہ دار اور خادم ہو جائے, اورعقل نور کی بدولت الہام کی بلندیوں تک پہنچ جائے اور تمام تجرباتی اکتسابات ایسا منشور بن جائے جو وجود کی روحانیت کاعکاس ہوں, تب ہر چیز سے روحانی معرفت محبت اور ذوق کے نغمات سنائی دینے لگیں گے۔

اور اگر کوئی انسان (خصوصاً بعض جماعتیں) یہ نظریات اور اعتقاد تو رکھتی ہیں, اور اپنے آپ کو اس کے مطابق چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے پھر بھی حتی المقدور کوشش نہیں کرتیں بلکہ کبھی کبھی تو گمراہی اور مخالفت میں مبتلا ہو جاتی ہیں, تو وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ انہیں ایمان سے حقیقی بے بہرہ کہہ سکیں۔ ایک سچے مؤمن کے تمام اعمال ایمانی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں, اور اس کی تمام حرکات وسکنات چاہے حالات مساعد ہوں یا نا مساعد ہمیشہ فکری آسمان کے گرد گھومتی ہیں۔

لہذا, مستقبل کی منصوبہ کرنے والے زمین کے ورثاء کے لئے مناسب ہوگا کہ وہ اس بات کا ادراک کرلیں کہ وہ کس طرح کا جہاں تشکیل دینا چاہتے ہیں, اور اس عالم کی بناوٹ میں کس طرح کا عمارتی سامان استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنی تعمیر شدہ عمارت اپنے ہی ہاتھوں سے گرانے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ ہماری زندگی کی ہزار سالہ معنوی جڑیں اور اصولی بنیادیں معروف اور معلوم ہیں۔

روشن مستقبل کے معماروں کو چاہئے کہ وہ (تحریکی کام کے ساتھ ساتھ) فکری قوت کے حصول کے لئے کوشاں رہیں تاکہ ہم ان تاریخی محرکات سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی دینی وملی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات کے مطابق مرتب کرسکیں, اور عمارت کی دیواریں اونچی کرتے وقت قرآن وسنت اور سلف صالحین کی مخلصانہ کوششوں اوردور حاضر کے جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انتہائی نرمی, گہرائی اور عالمیت کا دامن تھامے اس کے نقطہ نظر کو جانیں اس کی نبض ٹٹولیں اور اس کے ما فی الضمیر میں جھانکیں۔ تاکہ وہ یہ نئی زندگی ملنے پر دوبارہ برزخ کی زندگی گزارنے نہ لگیں۔ اس مقصد کے لئے سب سے ضروری یہ کہ ہم اپنی نفسانی خواہشات اور امنگوں سے دور رہیں, اور روحانیت کو توجہ دیں, اور علم اور دنیا کو ایک ہی مقام پر جمع کریں اور ان دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلیں جس کے لئے ہمیں عبادت اور اس کی مقدار پر توجہ دینا ہوگی, اور اذکار وظیفوں کی ادائیگی میں کمی کو نیت اور خلوص کے لا متناہی آفاق سے پر کریں, اوراپنی دعاؤں اور مناجات میں معرفت اور یقین واعتماد کا دامن ہاتھ سے نہ جانیں دیں, اور اس عظیم ذات کے سامنے دامن پھیلائیں جو ہمارے دلوں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس کے معنی وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں احساس ہے کہ نماز ایک معراج کا تحفہ ہے , اور زکاہ اللہ Iکے پاس چھوڑی ہوئی ایک امانت ہے, اور حج کو نورایت, روحانی وقلبی جلال اور اخروی فوائد سے لبریز مقدس زمین پر ایک ایسا عالمی اجتماع سمجھے جو عالم اسلامی کے مسائل کے جاننے اور حل کے لئے بلایا گیا ہو۔

ان چیزوں کا احساس اور زندگی اس کے مطابق گزارنے کے لئے ایسے طبیبوں کی ضرورت ہوگی جو ہماری اندرونی وبیرونی پستی کی صحیح تشخیص کر کے اس کا علاج تلاش کریں۔ اور ایسے مخلص راہنما اور قائد جو اخروی زندگی سے مربوط ہوں۔

وہ راہنما جو مادہ سے معنی تک ,فزکس سے تعلیمات الہیہ تک اور فلسفہ سے تصوف تک کی عالمی فکر جیسی صلاحیتوں کے حامل ہوں۔ آج تک حاصل ہونے والی کامرانیوں کے پیچھے ایسے ہی عظیم لوگوں کا ہاتھ ہے, اور ایسے لوگ ہی مستقبل کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ قرآن وحدیث کی روشنی میں مستقبل کی توقعات اور ایجادات کا حل نکالنے والے , اور اپنی آراء کو جدید تقاضوں کے مطابق مزین کرنے والے, اور جدید ترقی سے عالم اسلام کو ہمکنار کرنے والے اور ملت اسلامیہ کے روح اور شعور کو اسلامی رنگ میں رنگنے والے, اور اپنی دینی ونیاوی ثقافت کو ہزرا سالہ پرانی ثقافت جسے ہم بھلا چکے سے ہم آہنگ کرنے والے ہیں۔ اس قسم کی قائدانہ صفات کے حامل افراد ہی ہمیں دوسری قوموں پر علم, فلسفہ, فن اور دینی برتری دلانے , اور زندگی کی تمام یونٹوں کو مثالی تقویت دلوانے, اور گلی کوچوں میں سرگردان نوجوان (تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ) انہیں آنے والے کل کی ضرورتوں کے مطابق فکری وتخلیقی اور معرفت وفن سے بہرہ مند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تب ہمارے گلی کوچے علم وعرفان کا ایسا نمونہ پیش کریں گے گویا مدارس, جیل خانے گویا علمی مراکز , اور ہمارےگھر جنت کا ایک نمونہ پیش کرنے لگیں گے۔ ہر مکان میں دینی علم دیناوی علم کا ہاتھ تھامے ساتھ ساتھ چلے گا, کونے کونے سے ایمانی پھل چننے کو ملیں گے, مستقبل خواہشات, امیدوں اور عزم کی ایسی فصلیں کاشت کرے گا جن کی بدولت عظیم شہر کی رنگینیوں اور فن کا خیال محال ہے۔ ٹیلی ویژن , ریڈیو, اخبارات ورسائل نشریات کا ایسا آئینہ دکھائیں جس میں فیوض , برکات اور نور ہی نور ہو , ہر شخص کے دل میں جنت کی شادابیوں کا حوض کوثر پھوٹے اور پسماندہ تاریخ تبدیل ہو جائے۔

جدید ترقی وکامرانی کی جھلک ہماری قیمتی تاریخ, ہماری ثقافت اور رومانس سے سیکھی جا سکتی ہے... ایک جانب تو گزشتہ کئی زمانوں سے غبن , قہر اور ظلم جیسے حالات سے دوچار ہماری یہ روحانی حالت ایک بار پھر سے بیدار ہوگی, اور دوسری جانب, ہماری دینی غیرت اور حمیت ہمیشہ مستعد اورہر لمحہ فعال رہے گی۔

اس عالمی پیغام سے فیض یاب ہونے کے لئے روح کی بالیدگی ضروری ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پچاس ساٹھ سالہ کوششیں ناممکن کو ممکن کی جانب نکالنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ اب ہم شاعر کہ ساتھ یہ گنگنا سکتے ہیں : اے فرہاد امید کی جانب بڑھو ... بہت سا سفر طے ہوگیا اور تھوڑا رہ گیا ہے... ۔ پہلا قدم روح کو متحرک کرنا ہے۔ جس کی بدولت ہم جہاں بھی جائیں گے سکون اور فصل بہاراں سے کشیدہ سلامتی کے نورانی پھول ہم نچھاور کئے جائیں گے۔ وطن عزیز کے مظلوم ومقہور اور لاچار باسیوں کی تاریکی چھٹنے کا وقت قریب آگیا ہے, اور جا بجا رحمت خداوندی کی ژالہ باری برسنا شروع ہو چکی ہے۔

آج قوت حق کے قالب میں ڈھل کر اپنے آپ کو حق کے حوالہ کر چکی ہے۔ جی ہاں طاقت کی موجودگی میں حکمت ہے ... او ربہت سے مسائل طاقت کے حصول کے بغیر ناممکن ہیں۔ اگر حق سے علیحدگی پسند طاقتوں میں سراسر نقصانات اور خسارہ ہی خسارہ ہے تو حق سے التحاق بعینہ حق ہے۔ قوت کے اتحاد سے جو جرأت کا سبق ملتا ہے وہ مظلوم کا حامی ہے نہ کہ ظالم کا, اور حق کی زبان بولتا ہے۔ اس کے بعد اہم یہ ہے کہ فکری جماعت اور تحریکی کام اسی کی نمائندگی کرے۔

فکری جماعت کے متعلق مزيد تفصيلات میں انشاء اللہ آئندہ صفحات میں بيان کروں گا۔

 
< پچھلا   اگلا >