*

عظیم محقق، مفکر اورعلام

محمد فتح اللہ گلین مشرقی ترکی کے شہر ارض رو م میں ہوئے ۔آپ ایک مذہبی سکالر ،مفکر ،ممتازایل قلم اورشاعر ہیں ۔ انہوں نے مذہبی علوم میں بہت سے قابل ذکر مسلم علماء اور روحانی پیشواؤں سے تربیت حاصل کی ۔گلین نے جدید معاشرتی اورطبعی علوم کے اصول وضوابط اورنظریات کا بھی عمیق مطالعہ کیا۔علم وفضل میں غیر معمولی مہارت اورذاتی مطالعہ میں ارتکاز کی بناپر وہ جلد ہی اپنے ہم عصروں سے آگے نکل گئے ۔1958ء میں زبردست امتحانی نتائج کے حصول کی وجہ سے انہیں ریاستی مبلغ کا اجازت نامہ دیا گیا اور جلد ہی ترکی کے تیسرے بڑے صوبے ازمیر...
مشورہ PDF پرنٹ کریں ای-میل
تحریر Administrator   
27.03.2008

سابقہ ورثاء کی مانند دورِ حاضر کے راہنماؤں کے لئے مشورہ ایک بنیادی وصف اور قاعدہ اساسیہ ہے۔ یہ ایمانی معاشرے کی نمایاں علامت اور اسلام کی قالب میں ڈھلی جماعت کی اہم خصوصیت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اسے نماز اور انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ ایک ہی صف میں بیان فرمایاہے۔

[وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ] (سورة شورى: 38)

اللہ تعالی باخبر کرنا چاہتے ہیں کہ مشورہ عبادت کی مانند ایک معاملہ ہے, جسے اللہ تعالی نے اپنی استجابت کہا ہے , اور اس استجابت کے تین اصول : نماز , مشورہ اور انفاق بتائے ہیں۔

اس اعتبار سے مشورہ سے روگردانی کرنے والا معاشرةہ کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا, اسی طرح وہ جماعت جو اس پر عمل نہ کرےصحیح معنوں میں مسلم جماعت شمار نہیں ہوتی۔ سو مشورہ دین اسلام کی وہ اساس ہے جس کا ہر ایک چاہے وہ لیڈر ہوں یا رعایا میں پایا جانا ضروری ہے۔ لیڈر سیاسی امور میں,نظام حکومت چلانے اور قانون سازی میں مشورہ لینے کے پابند ہیں اور عوام اپنے لیڈروں کو اپنی سوچ اور رائے دینے کے مکلف ہیں۔

مشورہ کے متعلق چند گزارشات کو فائد مند پاتا ہوں۔ مسائل کے درست حل کی تلاش کے لئے مشورہ ایک بنیادی شرط ہے ۔ فرد یا معاشرے کے بارے میں دوسروں کی آراء اور مشوروں کے بغیر سرانجام دیئے گئے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ اور ذلت آمیز رہے ہیں۔ جو شخص ذاتی رائے پر انحصار کرے اور دوسروں کی رائے کو اہمیت نہ دے, وہ جتنا بھی بلند فطرت اور سمجھدار بلکہ ذہانت کا عظیم نمونہ ہی کیوں نہ ہو ایک کم سمجھدار لیکن ہر کام مشورہ سے کرنے والے کی نسبت غلطیوں اور سرکشیوں کا زیادہ شکار ہوتا ہے۔ عقلمند انسان وہ ہے جو مشورے اور دوسروں کی آراء کو اہمیت دے اور ان پر اعتبار کرے۔ جو شخص اپنے کام اور پروگراموں پر اکتفاء کرے, یا انہیں دوسروں پر مسلط کرے تحریکی قدرت کے فقدان سے نہیں بچ سکتا, مزید برآں اپنے ارد گرد سے نفرت اور کراہیت کا حقدار ہوگا۔

مشورہ ہر کام کے اچھے نتائج کے حصول کے لئے شرط اول اور ایسی طاقت کے حصول کا سبب ہے جو اسے دگنا طاقتور بنادے۔

کوئی بھی کام کرنے سے پہلے خوب مشورہ کر کے تمام اسباب وتدابیر کو سوچ سمجھ لینا چاہئے تاکہ نتائج کی مصیبتوں کو دگنا کرنے والے عوامل سے بچنا ممکن ہو سکے۔ جب تک کہ انجام کار کے بارے میں سوچ وبچار اور اہل معرفت اور تجربہ کاروں سے مشورہ نہ کر لیا جائے شرمندگی اور ذلت سے بچنا محال ہے۔ کرنے والوں نے کتنے ہی بلا سوچے سمجھے کام سر انجام دیئے ہیں جن کا نتیجہ اپنی ذات میں شرمندگی اور پچھتاوا اور غیروں کے نظروں میں ذلت اور بد اعتمادی کا موجب بنا۔

قانون ایک نظام کی مانند ہیں, جس کے قیام اور دوام کے لئے مشورہ انتہائی فعال محرک ہے۔ یہ فرد اور معاشرے, عوام اور ملک, علم اور معارف, اقتصادیات اور معاشرت سے متعلق جملہ ایسے مسائل جن کے بارے میں نص صریح نہ ہو کے حل کے لئے ایک اہم عنصر ہے ۔ کسی ملک کی مجلس مشاورت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقدم اور ان کی راہنما ہوتی ہے۔ مملکت ترکی میں مجلس مشاورت انتہائی محدود اختیارات کی حامل اور عملداری میں اسلامی شوری کی بنسبت رکاوٹوں اور پابندیوں کا شکار ہے۔

صدر مملکت اور وزیر اعظم چاہے وہ جتنے بھی وحی, الہام والے اور مؤید من جانب اللہ کیوں نہ ہوں مشورہ کے پابند ہیں۔ ماضی سے لے کر حال تک ہم یوں ہی کرتے آئے ہیں۔ اور اگر مجلس مشاورت کسی تقصیر کا شکار ہوئی تو نوجوانوں اور عوام کے ہاتھوں ذلت سے دوچار ہوئی۔ اس کو پس پشت اور صرف نظر کرنے والا معاشرہ آج دن تک کامیاب نہ ہوسکا۔ نبی کریم e کے فرمان : ’’جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوگا’’ [1] میں امت کی بھلائی اور اس کے مستقبل کی ضمانت مشورہ بتائی گئی ہے۔

شوری کا لفظ قرآن کریم میں صراحتاً دو مقامات پر اور معانی کے اعتبار کے کئی ایک مقامات میں ذکر ہوا۔ صراحتاً مذکور دو مقامات یہ ہیں :

[وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ] (آل عمران 159) [وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ] (الشوری 38)

وہ سورت جس میں مشورہ کا ذکر ہوا کا نام شوری رکھنے میں بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔

اس سورت میں مشورہ کو صحابہ کرام کی ایک صفت بیان کیا گیا ہے۔ گویا آیت ہذا میں ایسے لوگوں کا تعریفانہ تذکرہ ہے جو اپنےکاموں اور امور میں مشورہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ اور مشورہ کو بہت سے صحابہ کرام کی صفت کے طور پر نمایاں کرنے میں مشورہ کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

جس طرح قرآن کریم نے مشورہ کو اہم اور عظیم قاعدہ بتایا ہے, اسی طرح نبی کریم e کا اہتمام اس کی اہمت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ نبی کریم e ہر اس مسئلے میں جس کے بارے نص صریح نہیں ہوتا, ہر ایک سے چاہے مرد ہو یا عورت, نوجوان ہو یا بوڑھا سے مشورہ ضرور فرماتے ۔ مختلف میدانوں میں ترقی حاصل کر لینے کے باوجود ہم مشورہ میں اس مقام تک نہیں پہنچ پائے جہاں تک وہ ان دنوں پھنہچے تھے۔

جی ہاں, نبی کریم e اپنے صحابہ کرام yسے ہر چیز میں مشورہ فرماتے۔ اور ان کی رائے اور مشوروں پر غور فرماتے, ان کی خاطر ترتیب دیئے گئے امور میں ان کی رضامندی پوچھتے۔ اور اپنے فیصلوں کو تقویت دینے کی خاطر ان کی رائے اور میلان کا ضرور خیال رکھتے۔ ان کی خاطر ترتیب دیئے گئے پروگراموں میں ان کی روحانی وفکری شرکت کو اہمیت دیتے۔ اور کاموں کو شمار کرکے برابر تقسیم کرتے۔

آئیے حیات مبارکہ e میں اس کے چند مشاہد پر نظر دوڑاتے ہیں:

جب نبی کریم e ’’جنگ احد’’کے لئے نکلے, اور صحابہ کرام y کو ہدایات دیں اور انہیں جنگی امور سے آگاہ کیا۔ ان میں اہم معاملہ وہ تھا جس کی مخالفت اور روگردانی سے سختی سے منع فرمایا : تیر اندازوں کی ایک جماعت کو پہاڑ احد کی ایک چوٹی پر متعین فرمایا, اور انہیں دشمن سے لڑنے کا طریقہ سمجھایا, اور انہیں تاکید کی کہ جنگ کا انجام چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ اپنی جگہ سے ہرگز نہ ہلنا, اور مال غنیمت سمیٹنے کے لئے نیچے اترنے سے منع فرمایا... اسی طرح کی دوسری ہدایات۔

لیکن صحابہ کرامy اطاعت اور اس کی گہرائیوں کا بخوبی ادارک رکھنے کے باوجود بھی حکمنامے کے مدت کے بارے میں اجتہادی غلطی کا شکار ہوئے۔ اور گویا ان سے نادانستہ حکم عدولی ہوگئی۔ جس کی وجہ سے نبی کریم e کو اس جنگ میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر کوئی اور ہوتا اور اس طرح کے پے درپے مقابلوں سے نقصانات اور زخموں کا شکار ہوتا تو وہ ان کی آراء کو پس پشت ڈال کر کہتا جاؤ ... تمہیں خداے پوچھے! لیکن آپ e نے ایسا نہ کیا۔ بلکہ انہیں سناتے رہتے ]وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ[ (آل عمران 159)۔ اس حال میں کہ صحابہ کرام y کی بدولت دشمنوں سے ملنے والے زخموں سے آپ کے چہرہ انور خون آلود ہوا اور ہر سو شہداء کے لاشے بکھرے , اس حال میں بھی آپ اپنے صحابہ کرام y سے مشورہ فرما رہے تھے۔ اور صرف مشورے تک انحصار نہ کیا بلکہ انہیں اللہ سےمغفرت طلب کرنے اور استغفار کی تلقین فرماتے رہے۔

اس سے نبی کریم e نے یہ ثابت فرمایا کہ وہ مشورہ کے پابند ہیں, چہ جائیکہ حیات طیبہ انوار وحی سے منور تھی۔آپ e امراء کو ان کی ذمہ داریاں کا احساس دلاتے , مامورین کو حکم دیتے کہ وہ امراء کو اچھی رائے دیں اور ان کی اعانت کریں, اور انہیں ظلم وزیادتی سے روکیں۔

نبی کریم e سے روایت ہے کہ جب غزوہ احد کے بعد آیت کریمہ ]وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ[ (آل عمران 159) نازل ہوئی, اور واضح کیا کہ اللہ Y اور اس کا رسول e مشورہ کے محتاج نہیں۔ اور چونکہ اللہI نے آپ e کو امت کے لئے باعثِ رحمت بنا کر بھیجا ہے تو فرمایا : جس نے مشورہ کیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے چھوڑا وہ گمراہ ہوا۔ اللہ I کے حکم کی روشنی میں ظاہر ہوا کہ امراء اگرچہ نبی کریم eکے محتاج وضرورت مند نہیں ہیں پھر بھی انہیں مشورہ دینے کے پابند ہیں۔

اب احادیث نبویہ کی روشنی میں مشورے کی افادیت کو واضح کرتے ھیں:

’’ جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہ ہوا, اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہ ہوا اور جس نے میانہ روی کی وہ تنگدست نہ ہوا’’ [2]

’’ مشورہ سے بندہ بدبخت نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ سے پہلو تہی کرکے نیک بخت ہوتا ہے’’ [3]

’’ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ ایمانتدار ہوتا ہے’’ [4]

’’ اللہ کی قسم جس قوم نے مشورہ کیا, اچھائی کی جانب اس کی راہنمائی ہوئی’’ [5]

لہذا , علمائےکرام متفق ہیں کہ مشورہ اسلام کے قوانین میں سے ایک قانون اور ایسا حکم ہے جس پر عمل کرنا لازم ہے۔ گزشتہ ادوار میں اور خصوصی حالات میں یہ حکم نامہ کیفیت نفوذ کے اختلاف کے باوجود نافذ العمل رہاہے۔

* * *

اس میں کوئی شک نہیں کہ مشورہ کوئی ایسا شرعی مصدر نہیں کہ اسے احکام الہیہ پر فوقیت حاصل ہو۔ ہاں مشورہ قوانین اور انتظامی امور میں اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب وہ شرعی احکامات کی حدود کے اندرہو۔ ایسے مسائل جن کے بارے میں نص صریح موجود ہو انسانی مداخلت کی اجازت نہیں۔ ان مسائل میں مشورہ سے رجوع کا مقصد اس حکم کے متعلق مقاصد کی حقیقی تعبیر کا حصول ہوگا۔ وہ مسائل جن کے بارے میں نص وارد نہ ہو وہ مشورہ سے حل کئے جائیں گے۔ اس صورت میں مجلس مشاورت جو نتائج اور فیصلہ کرے ان پر عمل کرنا نص پر عمل کرنےکی طرح ضروری ہے ... مجلس مشاورت کے فیصلے کی مخالفت یا اس کی مخالفت میں آراء اور ا فکار پیش کرنا جائز نہیں۔ اگر مجلس مشاورت کسی غلط نتیجے پر پہنچے تو اس کی غلطی کو مجلس مشاورت کے فیصلے ہی سے درست کیا جا سکتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مشورہ کے نصوص معنوی عموم کو ظاہر کرتے ہیں, لیکن ان نصوص کا معنوی موضوعات اور حضور e کے عمل طریقے کے ساتھ اس کی مطابقت بھی ضروری ہے۔ نصوص اسلامیہ نے چند مواقع پر ہی اصول کے عمومی کلیے وقاعدے وضع فرمائے ہیں اور فروعی مسائل کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ بہر حال وہ مسائل جن کے بارے نص قطعی موجود نہیں ان کے لئے شوری اور باہمی مشاروت کی جانب رجوع کیا جائے گا۔ اس صورت میں وہ احکامات جن کے بارے میں صریح احکامات موجود ہیں وہ مشورہ میں نہیں آتے, البتہ وہ مسائل جن کے بارے میں صریح احکامات موجود نہیں وہ مشورہ کے تحت آتےہیں, اور ان کا اسلام سے ہم آہنگ ہونا اور قرآن وسنت اور کتاب اللہ کی تعلیمات کے مطابق ہونا ہر حال میں ضروری ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام مقاصد کے حصول سے پہلے انہیں اس معیار پر دیکھنا چاہتا ہے جس میں وہ عالمی معیار کا سامنا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہوں ۔ مثلاً: لوگوں میں مساوات قائم کرنا, جہالت کا خاتمہ اور علم کی نشر اشاعت, تمام مسائل کو اسلامی سانچے میں ڈھالتے ہوئے ذاتی تضاد سے بچانا, وطن عزیز کے لوگوں کی عالمی برادری میں قدر ومنزلت کی حفاظت, فرد اور معاشرے میں عدالت کا فروغ, عوام اور لوگوں کی محبت احترام اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی فکری تربیت, دوسروں کی خاطر قربانی دینا اور انہیں مادی ومعنوی فیوض سے بہرہ مند کرنے کا احساس اجاگر کرنا, دنیاوی اور اخروی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا, اندرونی وبیرونی سیاست کو منظم کرنا, بین الاقوامی ترقی کے ساتھ ساتھ چلنا, طاقت کے وسائل کا حصول اور انہیں جدید بناتے رہنا۔ عظیم قائدین ومفکرین اور ماہر فلسفی حضرات زمانہ قدیم سے لے کر آج تک ان انسانی مسائل کا حل تلاش کرتے آئے ہیں۔ نبی کریم e اپنی حیات مبارکہ میں ان مسائل کے اہتمام کے لئے کمر بستہ رہے , اور اسی اساس پر انسانی زندگیوں میں, ان کی ثقافتی سرگرمیوں میں, ان کی کوشش ومحنتوں میں اور ایک دوسرے سے تعلقات میں اجاگر کرتے رہے, جس کے ذریعے ان کی سوچوں, افکار, عقل ومنطق , احساس اور دلوں کو آپس میں جوڑتے رہے۔

* * *

مشورہ کے اپنے نتائج ہیں جو اس کی خصوصیات کیوجہ عائد ہوتے ہیں, اور ایسے قوانین جو ان نتائج کے حصول تک رسائی کرتے ہیں۔ ان میں بعض: فکری معیار کی بلندی, اور معاشرہ میں شرکت, ہر حادثے میں اسی کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت اجاگر کرنا, مثبت سوچوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی, اسلام کے سنہری مستقبل کے لئے مشورہ پر کاربند ہونا, نظام حکومت کے ہر شعبے میں جس قدر زیادہ سے زیادہ ممکن ہو سکے لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانا, جب بھی ضرورت محسوس ہو قائدین کے احتساب کا احساس اجاگر کرنا, امراء کے ناجائز تصرف کو روکتے ہوئے ان کے تصرفات کو محدود کرنا۔

جیسے کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں بیان کیا کہ اللہ I نے صحابہ کرام yکی منقبت یوں بیان فرمائی ]وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ[ جوکہ زندگی میں مشورہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ رسول اللہe کو انہی صحابہ کرامy سے مشورہ لینے کا حکم ہوا جن کی وجہ سے انتہائی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا اور اسی کی بدولت معرکہ اختتام پذیر ہوا , اس میں ایک بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔

مشورہ کی اصلیت جس کی بدولت یہ دونوں آیات نازل ہوئیں, نرمی کی وسعتوں کو سمیٹے , زمانے کی ضرورتوں کو شامل اور زمانے کی سرحدوں کو متعین کرنے والی ہے۔ زمانہ جس قدر ترقی کرلے اور جتنا ہی آگے کیوں نہ نکل جائے, اور انسان فضاؤں تک پہنچ جائے اور وہاں آباد ہو جائے ان دونوں آیتوں کی ضرورت سے ما وراء نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت اسلام کے جملہ اصول وقواعد اپنی ذات میں نرمی کو سموتے اور جہاں کی ضرورتوں پر مشتمل اور ہر زمانے میں نوجوانوں کی حفاظت اور ان کی تربیت کو اہمیت دیتے دکھائی دیں گے۔

* * *

مشورہ کی بنیادی امور کو بیان کرنا یہاں مفید ہوگا:

1- مشورہ امیر اور مامور کا برابر حق ہے, جس کے استعمال میں کسی ایک فریق کو دوسرے فریق پر کوئی فوقیت نہیں, ارشاد باری تعالی ]وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ[ مشورہ میں مساوات پر دلالت کرتا ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کا اہتمام تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے وہ مشورہ کا حق استعمال میں کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن یہ حق حالات اورزمان ومکان کی تبدیلی سے بدل بھی سکتا ہے اور مشورہ کی شکل اور ماہیت تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔

2- حکم خداونی ]وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ[ کے بموجب ایک قائد معاشرتی امور میں مشورہ کا پابند ہے, اور اگر وہ اہل رائے کے مشورے سے داخلی امور سرانجام نہیں دے گا تو وہ ذمہ داریوں سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری جانب , رعایا یا مامورین تفویض کئے گئے امور میں حق مشاورت کو چھپائیں گے تو وہ اس کے نہ صرف ذمہ دار ہوں گے بلکہ اگر وہ حق رائے دہی استعمال نہیں کریں گے تو شہری حقوق کی ادائیگی کے گنہگار کہلائیں گے۔

3- اس کے اہم عوامل میں سے : اللہ U کی رضا کی طلب, اور مشورہ کی ذریعے مسلمانوں کی خیر خواہی, اسی طرح رشوت یا دباؤ یا دھمکیوں کی زد میں آکر اہل مشورہ کو رائے بدلنے سے باز رکھنا۔ نبی کریم r کا ارشاد گرامی ہے : ’’ جس سے مشورہ مانگا جائے وہ ایمانتدار ہوتا ہے’’ سو جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ یوں مشورہ دے جیسے وہ اپنی ذات کو مشورہ دے رہا ہے۔

4- کبھی کسی مسئلے پر سب آراء متفق نہیں ہوتیں۔ اگر کسی مسئلے پر تمام آراء جمع نہ ہوں تو اکثر کی رائے پر عمل کیا جائے, کیونکہ صاحب شریعت r نے اکثریت کی رائے کو اجماع کادرجہ دیا ہے اور فرمایا ہے ’’ جماعت کو اللہ تعالی کی مدد حاصل ہے’’[6] اور ارشاد ہے: ’’ میری امت کسی گمراہی پر اجماع نہیں کر سکتی’’ [7] , اور فرمایا : ’’میں نے اللہ تعالی سے مانگا کہ میری امت گمراہی پر اجماع نہ کرے, سو اس نے میری دعا قبول کرلی’’[8]

نبی کریم e کے ان ارشادات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ اکثریت کو اجماع کا درجہ حاصل ہے, اور سواد اعظم (اکثریت) کی پیروی لازم ہے۔ حیات طبیہ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے غزوہ بدر, غزوہ احد سے پہلے اور بعد میں آپ نے مشورے کئے ہیں۔

5- شرائط کی موجودگی میں سرانجام پانے والے اکثریت کے اجماع کی جانب سے جاری شدہ فیصلے کے بعد اس کی مخالفت میں یا اس کے بدلے کوئی دیگر رائے اور مشورہ دینا جائز نہیں۔ سو فیصلہ کے بعد مخالف رائے کی تایید میں دلیلیں دینا یا اس کی مخالفت کرنا باعث فساد اور موجب گناہ ہے۔ نبی کریم ذاتی رائے کو چھوڑ کر اکثریت کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے میدان احد کو نکلے, اور باوجودیکہ کہ اکثریت کی رائے غلط ثابت ہوجانے کے باوجود بھی نہ تو شروع میں اورنہ ہی آخر میں کبھی کوئی بات کی۔

6- مشورہ رونما ہونے والی مشکلات اور حوادث کا حل پیش کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے... جس کی بدولت اسلامی زندگی طبعی اور غیر طبعی دونوں صورتوں میں جاری رہتی ہے۔ بہرحال وہ مقامات, منصوبے اور پروگرام جن کا حل اس سے ناممکن ہو , تو ان خصوصیات اور شروط کو لیا جائے گا , اور ہر حادثے یا پروگرام کو اس اپنے حالات اور طریقے سے حل کیا جائے گا۔

7- مجلس مشاورت جب بھی ضرورت ہو اجلاس بلائے گی, اور مشکلات ومسائل کا حل تلاش کرے گی, او رجب تک حل نہ نکل جائے اپنا کام جاری رکھے گی۔ صرف خصوصی دنوں میں ہی اجلاس بلانا اور اس پر تنخواہ یا وظیفہ لینے کے بارے میں ہمارے سامنے کو دلیل نہیں۔ اسی طرح مشاورت کے بعد فیصلوں کے نفاذ کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہوتی۔ تنخواہ داروں سے مشاورت لینے کے کئی ایک نقصانات دکھائی دیئے ہیں۔

* * *

جب ہم مشورہ کی بات کرتے ہیں تو لا محالہ مجلس مشاورت پر بھی بات ہونی چاہئے۔ مشورہ کے لئے تمام لوگوں کا کسی ایک نقطے پر متفق ہونا محال ہے,تو بہتر ہوگا ان میں سے چیدہ چیدہ آدمیوں کا انتخاب کیا جائے۔یہ لوگ عالم, انتہائی تجربہ کار, ماہر اور ہر فن مولا جیسی خصوصیات کے حامل ہوں ۔ ایسے لوگوں کو علمائے کرام نے اہل حل وعقد اور مشکلات کے حل نکالنے کی صلاحیت رکھنے والے کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جو علمی وفنی وتعمیری میدانوں می ہرطرح کی ایسی مہارتوں اور خصوصیات کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم اور اسلامی روح و معنی کے مفہوم سے بھی بہرہ مند ہوں, اور خصوصاً ہمارے اس دور حاضر میں جب زندگی پیچیدگیوں کا شکار , اور ہر مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے ۔ مسائل کے اس انبار میں مجلس مشاورت میں ہر طرح کی خصوصیات کے حامل ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے جو ان مسائل کو دینی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔جب ہم مشاورت کو اہل حل وعقد کے سپرد کرتے ہیں تو مشاورت کے لئے جگہ اور حالات کا تعین وانتخاب بھی انہی کا کام بن جاتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے مشورہ کے نفاذ اور حالات کی تبدیلی میں تنوع پایا جاتا ہے۔ یہ کبھی تو انتہائی محدود دائرہ کا حامل رہا ہے اور کبھی انتہائی وسیع۔ بدلتے تاریخی حالات میں یہ کبھی تو عام آدمیوں کے دائرہ کار تک محدود رہا, اور کبھی اس کے دروازے اہل تلوار اور اہل قلم پر کشادہ رہے۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اصل تبدیل ہوتی رہی, بکلہ اس کا سبب وہ نرمی اور جہاں گیری ہے جو اسے ہر زمان ومکان میں قابل عمل بناتی ہے۔

زمان ومکان او رحالات کی روشنی میں مشاورت کی جو بھی شکل رہی ہو , مجلس مشاورت کا اہل علم ونظر , عادل و زیرک, تجربہ ومہارت اور حکمت وفراست کا ہر حال میں پرتو ہونا ضروری ہے۔ عدالت یہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی, محرمات سے اجتناب اور انسانی اقدار کےمنافی اعمال سے احتراز کیا جائے۔ اور علم, دین, نظام حکومت وسیاست اور فن کو جاننے اور اس میں مہارت کا نام ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی شخص ہر قسم کی علمی اقسام کا ماہر ہو, بلکہ مجلس میں ایسے افراد کو چنا جائے جو مختلف اقسام کے علوم پر دسترس رکھتے ہوں۔ نظریہ اور عقیدہ سے متعلق امور میں اسلامی علوم سےبہرہ مند علماء کرام کو چھوڑ کر دیگر علوم کے ماہرین کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا۔ اور جس طرح حکمت اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے علم وحلم اور مفہوم نبوت پر دلالت کرتی ہے اسی طرح پس پردہ اشیاء, نظر, شعور اور لوگوں سے پوشیدہ امور کا نور فراست سے حل نکالنا اور فرد اور معاشرے کو درپیش مسائل کا قابلیت , قدرت اور ذہانت سے حل کرنے کی بھر پور صلاحیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایسے قابل لوگ بہت کم, انتہائی اہمیت کے حامل اور زمانے میں انتہائی مقبول ومعزز رہے ہیں۔

* * *

حیات طیبہ میں نبی کریم e کا مشورہ کو اہمیت دینا, اور ہر عمر اور سمجھ کے حامل شخص سے رائے لینا ایک معمول رہا ہے۔ نبی کریم e ہر وقت دوسروں کی رائے کو اہمیت دیتے... ان کی سوچوں اور آراء پر غور وفکر کرکے ایسی مضبوط راہیں ہموار کرنے کی کوشش کرتے جو ان کے منصوبوں اور پروگراموں کو تقویت دے سکیں۔ کبھی ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ اور کبھی سب کو ایک جگہ جمع کرکے تاکہ تمام افراد اجتماعی شعور سے باخبر ہوسکیں۔ ذیل میں آپe کی سیرت طیبہ کے چند منور نمونے پیش خدمت ہیں :

1- حادثہ افک میں, حضور e نے حضرت علی, عمر ,زینب بنت جحش, بریرہ وغیرہ جیسے صحابہ کرام yسے مشورہ طلب کیا, حضرت علی t نے ایسا مشورہ دیا جو حضور ﷺ کو غم سے نجات دے دے۔ اور حضرت عمر حضرت زینب , حضرت بریرہ اور کئی دوسرےعظیم صحابہ کرام y نے حضرت عائشہ کی طہارت پاکیزگی اور بلند مرتبت ہونے کا موقف اپنایا۔ حضرت عمر t سے مشورہ کے دوران ایک عظیم نقطہ مروی ہے تاہم اس کی سند کے صحت کے بارے میں کلام ہے۔ نبی کریم e نے حضرت عمر t سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں رائے طلب کی, حضرت عمر tنے آپ کی طہارت وپاکدامنی پر زور دیا۔ جب نبی کریم r نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو آپ نے یاد دلاتے ہوئے فرمایا: ایک بار آپ r ہمیں نماز پڑھا رہے تھے, تو آپ نے اپنا موزہ اتار دیا تھا, جب ہم نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو آپ نے بتایا تھا کہ جبرائیل u نے آپ کو موزے پر نجاست لگے ہونے کا بتایا تھا۔ اگر اللہ تعالی آپ کو موزے پر نجاست کے متعلق باخبر کر سکتا ہے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ آپ کو ازدواجی زندگی سے متعلق آپ کو باخبر نہ فرماتا؟ اگرچہ راویوں کو اس کی صحت پر اشکال ہے, لیکن پھر بھی اس میں عبرت کا پہلو ضرور ہے۔

2- غزوہ بدر میں نبی کریم ﷺ نے مہاجرین وانصار سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت مقداد t نے مہاجرین کی جانب سے اور حضرت سعد بن معاذ t نے انصار کی جانب سے ایمان, غیرت اور خود سپردی کے جذبات سے بھر پور ایسا مشورہ دیا جو ایک دوسرے سے بڑھ کر خود کو حضور e کی مدد و نصرت کے لئے پیش کرنے کی غرض سے دیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے کئے گئے فیصلوں کی مکمل حمایت اور پاسداری کی۔ ان مشوروں نے عام صحابہ کرام کو عظیم فیصلوں کاملکہ اور اجتماعی سوچ کا ادراک رکھنے والا بنایا۔

3- جنگ احزاب میں: نبی کریم e نے صحابہ کرام y سے مشورہ طلب کیا, انہیں حضرت سلمان فارسی tکی دشمنوں کے متوقع دخول کے راستے میں خندق کھودنے کی رائے پسند آئی, جوکہ آپ eکے ہاں مشورہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

5- صلح حدیبیہ میں: آپ e نے مشورہ کا اہتمام فرمایا اور اکثریت کی رائے کو اہمیت دی, اس کے بعد آپe نے حضرت ام سلمہ سے مشورہ کیا, اور ان آراء ومشوروں کی روشنی میں آپ e نے ایسا طریقہ کار بیان فرمایا جو آپ e کے ذاتی میلان کا آئینہ دار تھا جس نے ملنے والی شکست کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

ایسے تمام مسائل اور امور جن کے بارے میں وحی نازل نہ ہوئی, آپ e نے ان کا حل باہمی مشوروں میں تلاش کیا, اور اجتماعی سوچ جاننے کے بعد کوئی فیصلہ فرمایا۔ اس مشاورت کے بعد اسلامی ممالک میں بنائی گئی مجالس شوری پہلی مجلس مشاورت کے مقابلے میں ایک معلومی جھلک پیش کرتی ہیں ۔


[1] طبرانی کی کتاب المعجم الاوسط سے, 6/365

[2] طبرانی کی کتاب المعجم الاوسط سے, 6/365

[3] مسند الشہاب , 2/6

[4] ابو داود, الادب 114, الزہد 49, الادب 57

[5] بخاری کی کتاب الادب المفرد 1/100

[6] ترمذی شریف, الفتن, 7

[7] ابن ماجہه , الفتن 8

[8] مسند امام احمد, 6/396

 
< پچھلا   اگلا >