|
گزشتہ باب میں ہم نے زمین کے ورثاء کے بارےمیں مختصراً ذکر کیا , اب ہم یہاں ان کی خصویات کے بارے میں تفصیلاً بیان کریں گے:
پہلی خصوصیت : ایمان کامل زمین کے وارث کی پہلی خصوصیت ہے , قرآن کریم نے ایمان باللہ کو انسانی پیدائش کےافق معرفت , روح محبت, بصیرت عشق وشوق اور روحانی خطوط کی رنگینیوں کا مقصد بتايا ہے۔ انسان کبھی تو اپنی ذات سے لے کر وجود کی گہرائیوں تک اور کبھی وجود کے حصوں کو جمع کرکے انہیں ذات میں سمونے تک اپنے ایمانی وفکری جہاں کی تعمیر كا مکلف ہے ,۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسانی روح میں پوشیدہ حقیقت کو آشکارا کیا جائے۔ انسان ایمانی روشنی کے بغیر اپنی ذات کی پہچان, اس کی گہرائیوں, وجود کے مقاصد وغایت, کائنات کے خفیہ اسرار ورموز اور پردوں میں پوشیدہ اشیاء کا مکمل ادراک نہیں کر سکتا... اور ان ادراک کا شعور پا کر ہی وجود کے اوصاف کو سمجھ سکتا ہے۔ کفر ایک ناکارہ اور معطل نظام ہے۔ کافر کے نزدیک : وجود کی پیدائش حادثاتی ہے اور نامعلوم وخفیہ انداز میں ترقی کر رہا ہے اور تیزی سے نامعلوم انتہاء کی جانب سرک رہا ہے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس سمٹنے اور سرکنے میں ہماری جگہ تنگ نہیں ہو رہی بلکہ جو بہی قدم اٹھتا ہے وہ رحمان کا ایسا عطیہ جو روحانیت کی تشریح, یا اطمئنان کی وہ باد صبا جو انسانی امیدوں کو سینے سے لگائے۔ بہر حال انسان کا وہ ایمان جو اللہ کی منشا اور بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق یعنی کب کیاکرنا ہے اور کیسے کرنا ہے, ذمہ داریاں اور ڈیوٹیاں کیا ہیں , تو اسے ہر چیز میں نور اور روشنی نظر آئے گی, اور جدھر قدم بڑھائے گا کوئی پریشانی نہ ہوگی, اور دیئے گئے ہدف کی جانب بلا خوف وخطر اور اعتماد سے بڑھے گا... اور بڑھتے وقت پچاس ہزار بار وجود اور وجود میں پنہاں رازوں کے بارے میں سوچے گا اور اشیاء اور حوادث کی چھان بین کرے گا۔ اور ہر دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ اور ہر ایک چیز کے ساتھ اس کے تعلق پر غور کرے گا ... اور جہاں قاصر ہوگیا تو انہی حقائق پر اکتفاء کرے گا جنہیں اس نے یا کسی اور نے جمع کردہ تحقیقات کی آئینے میں دیکھا اور پرکھا ہوگا, پھر اپنا سفر جاری رکھے گا ۔ ان مثالوں کی روشنی میں, ایمان والوں پر قوت کے وسائل آشکارا ہوں گے۔ یہ بھر پور خزانہ اور ذخیرہ جس کے معیار مختلف ہیں اور مثلاً ( لا حول ولا قوة إلا بالله ) جس کی وجہ سے اسے اس قدر اہمیت حاصل ہو جائے کہ غیر کی حاجت کا احساس ختم ہوکر اس ذات کی طرف مڑ جائے جو اس طاقت اور اس نور کا اصل محور ہے۔ سو اسے ذات باری تعالی کے سوا نہ کچھ دکھائی دیگا نہ سجھائی, اور اسی کی جانب دوڑا دوڑا جائے گا, زندگی اسی کی جانب متوجہ ہو کر گزارے گا, اور دنیا کی ہر چیز کی تعریف اللہ کی پہچان اور اس کے توکل کے سہارے بیان کرنے کے قابل ہوجائے گا, شوق میں زندگی گزارے گا, اور انتہائی نامساعد حالات میں بھی نا امیدی اور سستی کا شکار نہ ہوگا بلکہ ہر چیز میں کامیابی کی امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے گا۔ میں یہاں اس موضوع پر اتنا ہی اکتفا کروں گا مزید تفصیل کے لئے آثار کی ضخیم کتابوں جن میں سرفہرست کلیات رسائل النور ہے کا حوالہ دیتا ہوں۔ دوسری خصوصیت: زمین کے وارث کی دوسری خصوصیت عشق ہے جو انقلاب کے لئے اکسیر حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ جو شخص اپنے دل کو اللہ پر ایمان اور اسکی معرفت کے لئے تیار اور کوشش کرے گا وہ اپنے دل میں تمام انسانوں بلکہ تمام موجودات کے لئے حسب درجہ گہری محبت اور عشق محسوس کریگا اور اس کی تمام زندگی اس کے وجود میں پنہاں عشق, وجدان, جذبات, میلان, اور روحانی ذوق کے اتار چڑھاؤ میں رہے گی۔ عظیم انقلاب کو پانے کے لئے ہر دور کی طرح ہمیں آج بھی اپنے دلوں کو حلاوتِ عشق و شوق سے فیضیاب رکھنے کی ضرورت ہے۔ نتائج کے اعتبار سے کوئی بھی تحریک اور کوشش عشق کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی... اور خصوصاً جب اس تحریک اور کوشش کا تعلق آخرت سے ہو۔ وہ عشق جسے ہم اس رخ میں پیش کریں کہ اس کا تعلق اور نسبت ذات باری تعالی خالق وحاضر وموجود کی جانب ہو... اور اس کے نور اور وجود کے سامنے اپنی ذات کے مخلوق ہونے کو اپنی سعادت سمجھیں۔ اور اس کے کلام پر ایمان مخلوق کی غایت اور اس پر بلا چوں وچرا سر تسلیم خم کرنا اپنی عادت بنا لیں۔ یہ طاقت کا ہمیشہ رہنے والا ایسا خزانہ اور خفیہ راز جو کبھی کم نہ ہوگا۔ زمین کے وارث نہایت جوش اور جذبے سے اس پر کاربند رہتے ہوئے اس سے کبھی غافل نہ ہوں۔ اہل غرب فلسفیانہ بیک گراؤنڈ , دھند, دھوئیں اور مادی رنگینیوں میں عشق کو پرکھتے ہوئے زندگی بھر وسوسوں اور شبہات میں ڈوبے رہتے ہیں۔ جبکہ ہم وجود اور اس کے مصدر کو کتاب وسنت کا آئینہ دار سمجھتے ہوئے اس خالق سے محبت کرتے ہیں جس کی محبت کے شعلوں, عشق و چاہت سے ہمارے دل روشن ہیں۔چونکہ انسان کی پیدائش, کائنات میں اس کا مقام, اس کی پیدائش کا مقصد, وہ راستہ جس پر وہ چلے, اس راستے کی منزل فکر انسانی اور اس کے احساسات, شعور وتوقعات سے بہت حد تک میل کھاتی ہے۔ اور اگر احساس کریں تو اس کے بغیر یہ پریشانی اور دہشت ہے۔ اہل قلب کے لئے یہ دونوں چیزیں عشق وشوق کا فوارہ اور جذب ومیلان کا محور ہیں۔ وہ شخص کبھی تہی دامن نہ رہے گا جو مکمل احساس اور ضرورت مند بن کر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔ اور وہ شخص کبھی نہیں مرے گاجس نے اس کے سایہ عاطفت میں پناہ ڈھونڈ لی۔ اہل طلب کے لئے امام غزالی , امام ربانی سرہندی, شاہ ولی اللہ دہلوی, بدیع الزمان نورسی کے اخلاص و سوچ سے فیض یاب ہونا, اور مولانا جلال الدین رومی, شیخ غالب اور محمد عاکف کے اخلاص سے قرب حاصل کرنا, اور خالد عقبہ صلاح الدین, محمد الفاتح اور یاووز سلیم سے عملی تحریک کا درس سیکھنا مفید ثابت ہوگا۔ ہمارا دوسرا کام یہ ہو کہ ہم ان کے عشق اور زمان ومکان کی پابندیوں سے پاک بے پناہ شوق کو اپنے زمانے کے اصولوں طریقوں اور وسیلوں کے مزاج کے مطابق ڈھالتے ہوئے ایک جگہ جمع کریں, تاکہ ہم اس قرآنی روح کو سمجھ سکیں جو زمانے کی خرد برد اور ماورائی طاقتوں کے اثرات سے پاک ہو۔ تیسری خصوصیت: وارثِ زمین کی تیسری خصوصیت عقل منطق اور شعور کو استعمال کرتے ہوئے علم کی طرف متوجہ ہونا ہے۔علم کی جانب یہ توجہ انسان کو تباہی سے بچانے کاایک اہم اقدام ہوگا۔جس میں انسان کاکسی بھی وقت فرضی خیالات کی جانب میلان کا ایک طرح سے جواب ہے ۔ امام بدیع الزمان النورسی نے فرمایا کہ نوع انسانی آخری زمانے میں علم وفن کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی ... اپنی ساری قوت علم پر صرف کر دے گی... اور علم کو ایک بار پھر حکومت اور طاقت مل جائے گی اور فصاحت وبلاغت اور ملکہ خطابت جمہور کو علم سکھانے کا ایک ذریعہ ہوگا, ساری توجہ اسی پر مرکوز ہوگی ۔ یعنی زندگی علم وبیان کی جانب لوٹ آئے گی[1]۔ اس کے علاوہ ہمیں کوئی ایسی راہ دکھائی نہیں دیتی جو ہمارے ماحول کو لاحق وہمی دھند اور اندھیر نگری کو نوچ کر ہمیں حقیقت کی بلندیوں تک پہنچائے۔ صدیوں بیکاری کی زندگی گزارنے کے بعد اور معرفت میں ایک مقام حاصل کرلینے کے بعد ہم اپنے شعور باطن میں جاگزین شرمندگی کو نوچ پھینکنے کے بعد مکمل تیاری کرتے ہوئے فکر ا سلامی کے منشور کے مطابق علم کا حصول اس کی نمائندگی اور اس کی تگ ودو جاری رکھیں۔ ماضی قریب میں ہماری علمی سوچ اور اہل علم کی بے وقعتی کا ایسا خلا دیکھنے میں آیا ہے جس کی اصلاح ناممکن ہے۔ کبھی تو ترجیحات اور اہداف کے اختلاف کی وجہ سے اور کبھی تو معلومات کو علم سے ملانے کے طفیل اور کبھی تو علم کو فلسفہ سے خلط ملط کرنے کے سبب۔ ہمارے علاقوں میں مقیم غیر ملکیوں نے اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور وطن عزیز کے کونے کونے میں سکول کھولے, اور تعلیم کے نام پر اپنے انداز میں ان کی تعلیم وتربیت کی۔ ہماری ایک جماعت نہ صرف اپنے ذہین وقابل نونہالوں کو ان کے سپرد کر نے پر بخوشی تیار ہوئی بلکہ ان کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے تاکہ وہ انہیں مغربی رنگ میں رنگنے کے منصوبوں پر تیزی سے عمل کر سکیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد, دین وایمان ضائع ہو گیا, ان غافل دھوکہ خوروں کا دین خراب ہو گیا اور ایمان مٹی میں مل گیا۔ یہاں تک کہ ہم من حیث الامت ذاتی فکر ی,تصوراتی , فنی اور حیاتی انحطاط کا شکار ہوگئے۔ اب نتیجہ پر حیرانی کیسی, جبکہ ہم نے خود ہی حقیقی علم وفکر کو پس پشت ڈالتے ہوئے بلا استثناء اور سوچے سمجھے بغیر اپنے تازہ وغیر پختہ ذہین وفطین نونہال امریکی ثقافت , فرنچ اخلاق وعادات اور انگریزی اصطلاحات سیکھنے کے لئے ان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیئے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے نوجوان اپنے علم وفن اور اپنی مہارتیں زبانے کو سکھانے کے بجائے مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر مارکس,دورکہمی, لینن اور ماویانی نظریات کا شکار ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے اشتراکیت, استبداد اور پرولیٹیرن میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کی , کچھ نے فروید کی تشریح کو اختیار کیا, کسی نے سارتر کے نظریات وجود میں اپنی عقلوں کو ضائع کیا, کچھ نے مارکوس کو للچائی نظروں سے دیکھا, کچھ نے کامو کے نقش قدم پر چل کر عمر عزیز گنوادی... ہمارے وطن عزیز میں یہ سب کچھ ہوا, اور علم کے لحاظ سے یہ دور ہر ایک کے لئے آزادی سے گل کھلانے کا دور تھا۔ ان مشکل حالات میں , کتمانِ حق کی صدائیں اور تاریک چہرے دین اور دینداروں کو ہمیشہ آلودہ کرتے ہوئے سرعام مغربی جنون کی تشہیر کرتے رہے۔ ان مراحل اور ان گھٹیا چالوں کو بھلانا ہمارے لئے مشکل ہے۔ ہمارے وطن اور عوام کے خلاف یہ راہیں ہموار کرنے والے امت کی اجتماعی سوچوں میں تاریخی مجرم کے نام سے یاد کئے جائیں گے۔ نفسوں میں دکھ اور دلوں میں درد محسوس کرتے ھوئے ہم چاہتے ہیں کہ تاریک رتوں کے ان بڑے بڑے انجینئروں کو ان کی بد بختیوں میں اکیلا چھوڑ دیں, اور ہمارے مستقبل کی فکری تعمیر کرنے والے ان چھوٹے چھوٹے معماروں کے بارے میں بات کریں۔ جی ہاں, ہمیں اہل غرب سے ماقبل کے اپنے اس دور کی طرح, علم وفکر کے زاویے میں ذات کی تجدید اور نوجوانوں کی علمی وفکری تربیت کرنا ہوگی, اپنی منحوس مسافت کے دوران وجدان عام میں محسوس کی جانے والی پریشانی, اور مدتوں غیروں کی نگرانی میں گزرنے والی زندگی سے لگنے والے دل کے روگ, اور سالوں سے جاری رد فعل سے ہمیں حضرت آدم علیہ السلام کو ملنے والے دکھ کی طرح دکھ ملا, حضرت یونس علیہ السلام کو ملنے والی آہ وبکا کی طرح آہیں اور سسکیاں ملیں, حضرت ایوب علیہ السلام کو ملنے والی تکالیف کی طرح تکلیفیں ملی۔ لیکن آج اس شعور اور سوچ کی بیداری کے بدولت اور تاریخی تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں اپنی منزل اور اس کے راستے نزدیک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چوتھی خصوصیت: وارث کے لئے چوتھی شرط کائنات, انسان اور زندگی کی تشریح پر نظر ثانی, اور صحیح اور غلط کے مابین گہری تمیز ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم درج ذیل امور کی یاد دھانی کرانا ضروری سمجھتے ہیں: 1- کائنات اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تاکہ بار بار اس کی یاد دہانی کرائی جائے۔ اور انسان ایک ایسی کتاب ہے جو وجود کی گہرائیوں تک اور ایک ایسی شفاف فہرست ہے جو تمام جہانوں کے ادراک کی صلاحیت رکھتی ہے ... اور زندگی اس کتاب اور اس فہرست کی تشریح ہے جس کے معانی تعلیماتِ الہیہ کے آئینے میں سمجھے جا سکتے ہیں۔ اور کائنات , انسان, اور زندگی ایک ہی حقیقت کے کئی رخ ہونے کی وجہ سے (جس میں کوئی شک نہیں) انہیں ایک دوسرے سے جدا اور علیحدہ علیحدہ کرنا وجود اور انسان کے ساتھ حقیقت سے پہلو تہی کی وجہ سے ظلم زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ کے برحق کلام کو اس کی جلالی صفات کی روشنی میں پڑھنا, سمجھنا, اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا واجب ہے... اسی طرح تمام اشیاء اور حوادث جنہیں اللہ تعالی نے اپنے علم سے صورت بخشی اور اپنی قدرت ومشیئت سے وجود بخشا کے مفہوم میں حق تعالی شانہ کی معرفت و ادراک اور توفیق کے راستوں کی تلاش ایسی بنیاد ہے جس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ فرقان عظیم اس ذات کا کلام ہونے کی بدولت تمام وجود کی روح اور دنیاوی واخروی سعادت کا واحد ذریعہ ہے۔ اور کتاب کائنات مختلف قسم کے علوم کی نمائندگی اور انہیں شامل ہونے کے سبب اس حقیقت کا اظہار ہے جو دنیاوی زندگی میں بالمشافہ اور اخروی زندگی میں وسیلہ ہونے کے ناطے ایک نہایت اہمیت کا حامل اور ایک پر تاثیر محرک ہے۔ ان دونوں کتابوں کا ادراک اور علمی حقائق کی روشنی میں ان کی سوجھ بوجھ اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے پر آخرت میں اچھی جزاء, اور اس سے غفلت اور پہلو تہی یا اس کی حقیقت سے ہث کر ایک نامناسب تفسیر پر بری جزاء کا سزاوار ہوگا۔ 2- مقامِ انسانیت کی حقیقی گہرائیوں کو شعور وفکر اور شخصیت کے زاوے میں جانچنا ہوگا۔ اسی طرح حق تعالی کے ہاں اور انسانوں کی نظر میں بھی کسی انسان کا مقام انہی خصوصیات میں پوشیدہ ہے۔ بلند انسانی خصلتیں,سوچ وفکر کی گہرائی اور شخصی سلامتی اعتماد کا ایسا کارڈ ہے جو ہمیشہ اور ہر جگہ مطلوب ہے۔ جو شخص اپنے ایمان اور یقین کو کافرانہ اوصاف اور افکار سے پراگندہ کرے, اور اپنی ذات کے حوالے سے شک وشبہات کا شکار ہو وہ شخص اللہ تعالی کی مدد وعنایت کی تجلیات کا آئینہ دار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح وہ احترام انسانیت کا حقدار اور قابل بھروسہ بھی نہیں ہوسکتا۔ بے شک اللہ تعالی اور دنیا بھر کے ہاں ایک انسانی کی قدر ومنزلت اس کی انسانی خصلتوں اور شخصی رفعت میں ہے اور اسی کے مطابق اس سے سلوک کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر, عظیم کامیابی کا حصول یا حاصل کرنے کے بعد اس کی حفاظت کا تصور ان لوگوں کے لئے جو انسانی مراتب سے بے بہرہ اور شخصی ضعف کا شکار ہوں جتنے بھی صالح مؤمن کیوں نہ بن جائیں محال ہے۔ اسی طرح شخصی سلامتی کے اقدامات کرنے والے اور بلند انسانی صفات کے حامل وہ لوگ جو صالح مؤمنین کا مظہر نہ ہوں کو ہم بالکل ناکام ونامراد نہیں کہہ سکتے۔ اللہ تعالی کی جزا وسزا خصلتوں اور صفات ان کی عمدہ ادائیگی میں مضمر ہے۔ 3- حق اور شرع کے حصول کے لئے وسائل کا بھی جائز وبر حق ہونا ضروری ہے۔ اسلامی خطوط پر استوار لوگ اپنی تمام امیدوں اور تمام مقاصد میں حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اس حق کے لئے وسائل کا جائز ہونا بھی ضروری ہے۔اخلاص اور سچائی کے بغیر اللہ تعالی کی رضا کا حصول ناممکن ہے, اور شیطانی وسائل سے اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کو حقیقی مقاصد کی جانب متوجہ کرنا ناممکن ہے۔شاید ہمیں کبھی ایسا بھی نظر آجائے۔ لیکن باطل طریقوں کی وجہ سے اور اللہ تعالی کی مدد اور لوگوں کی توجہ سے محروم ہونے کی وجہ سے لازوال کامیابی سے یقیناً محروم ہوگا۔ پانچویں خصوصیت: وارث کی پانچویں خصوصیت یہ کہ وہ خود بھی سوچ وبچار میں آزاد ہو اور آزادی تفکیر کا قدرداں بھی ہو۔ آزادی اور اس کی حلاوت سے بہرمند ہونا ارادہ انسانی کی گہرائی اور ایک جادؤی دروازہ ہے جو اسرار ذاتیہ کی جانب کھلتا ہے۔ انسان جب تک اس گہرائی میں نہ اترے یا اس دروازے میں داخل نہ ہو انسان نہیں کہلا سکتا۔ سالہا سالوں سے ہم لوگ بیرونی غلامی اور اندرونی دہشت گردی کے غم میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے ہمارا عرصہ حیات ہم پر تنگ کیا اور ہماری سوچوں اور افکار پر طرح طرح کا بوجھ لاد دیا ہے اور ہمارے گلے میں غلامی کا ایسا طوق ہے جس سے ہمارا دم گھٹ رہا ہے۔ پڑھنے, سوچنے , احساس اور زندگی کی ان پابندیوں میں حاصل ہونے والی جدت پسندی اور ترقی کو گولی مارو, اور ذرا اپنے دل سے سوچو کہ کیا ان حالات میں ایک انسان کا انسانیت کے معیار اور صفات پر برقرار وقائم رہنا ممکن ہے۔ ان حالات میں جب انسانی منزل ومرتبت کا برقرار رکھنا ایک خام خیالی اور مشکل کام ہو, ایک انسان کا بصارتی وسعتوں اور روح تجدید کے ذریعے بلندیوں کے آسمان کو چھونا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ ان حالات میں ہمیں شخصی کمزوری, روحانی پستی اور ناکارہ افکار کے حامل لوگوں کے سوا کوئی دوسرا نظر نہیں آرہا۔ ہماری چند سالہ پرانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے خاندان, عوام,تعلیمی ادارے اور مراکز فنون نے ہمارے ذہنوں میں فاسد افکار اور نظریات کی روح پھونک کر مادہ سے لے کر روح تک اور فزکس سے لے کر تعلیمات الہیہ تک ہر چیز الٹ کر رکھ دی۔ اس مذکورہ دور میں ہم اگر اس بات پر غور وفکر کرتے ہیں تو اس میں انحراف پاتے, ہر چیز کو اپنی انانیت کی تسکین میں تشکیل دیتے ہیں, اپنے اعتقادات و ایمان کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا, اور جہاں ضرورت ہوتی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے۔ اس قوت کے استعمال میں حق, فکر اور انتظامیہ کی آزادی کا گلہ گھونٹتے اور دوسروں کے سینوں پر چڑھ دوڑتے۔ المیہ تو یہ ہے کہ یہ ابھی تک جاری ہے , اور مستقبل میں اس کے خاتمے کی بھی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن حالات کا تقاضا ہے کہ -تجدیدِ امت کی ان راہوں میں- ہم اپنی ہزار سالہ پرانی تاریخ کے محرکات پر نظر دوڑائیں, اور ایک سو پچاس سالہ پرانی تبدیلوں کا جائزہ لیں۔ یہ ضروری ہے, کیونکہ احکامات وتعلیمات کو خود ساختہ مقدسات کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے۔ بوجھ تلے دبی سوچ سے پھوٹنے والے احکامات بھی معلوم ہیں ... اور بے فائدہ ہیں ... اور ایک شخص ایک پرامید روشن کردار ادا کرنے سے سراسر قاصر ہے۔ اس کی تیاری کا مقصد لڑائی کے دلداہ جالوں میں گرفتار گروہوں کی آپس کی لڑائی, گروہی تصادم, عوام کا باہم دست وگریبان ہونا اور فوجی تصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک گروہ دوسرے گروہ کا مخالف ہے, اور یہ گروہ بندی موجودہ لڑائی اور بربریت کا سبب بنی ہے! اگر انسان انا پرست, خواہشات کا دلدادہ اور اس قدر سنگدل نہ ہوتا تو آج دنیا کا نقشہ سراسر مختلف ہوتا۔ اب ہم پر لازم ہے کہ مختلف جہانوں کی جانب توجہ میں ہمیں آزادی فکر وآزادی ارادہ کی وسیع تعریف کرنا ہوگی, چاہے وہ غیروں کے ساتھ سلوک ہو یا ہماری ذاتی انانیت یا خواہشات کی پیروی۔ آج ایسے کشادہ سینوں کی ضرورت ہے جو سوچ کی آزادی کے ساتھ ساتھ علم اور علمی تحقیق کو قرآن وسنت کے زاویے میں کائنات سے لے کر زندگی کی ہر چیز تک کشیدہ خط سے ہم آہنگ کریں۔ آج کل کے دور میں یہ کام ایک ماہر جماعت ہی سرانجام دے سکتی ہے۔ اور درحقیقت ماضی کے سارے عظیم کارنامے بھی ماہر لوگوں کے ہی مرہون منت ہیں۔ لیکن آج ہر چیز انتہائی وسعت اختیار کرتے ہوئے فروعات میں اس قدر تقسیم ہو چکی کہ تنہا شخص یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے, لہذا معنوی شخصیت, باہمی مشورہ اور اجتماعی سوچ نے مہارت کی جگہ لے لی۔ اور یہی چھٹی خصوصیت کا خلاصہ ہے۔ ہمارے ماضی قریب پر اس سوچ کا اطلاق ناممکن ہے۔ مروجہ تعلیم ہمارا صحیح مقام لوٹانے میں ناکام رہی۔ قدیم مدارس نے زندگی کے صرف اطراف وکناروں کا احاطہ کیا۔ اور (زاویہ) تعلیمی مراکز نے ہر چیز کو ماوراء کے سپرد کر دیا ہے, اور مرکز اکیلا ہے قوت کے لئے پریشان اور نقصان برداشت کرتا رہا۔ اور ظلم تو یہ ہے کہ ان حالات میں ہم انہی تنظیموں کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں قدامت پسندانہ افکار [2] قدیم تعلیم پر حاوی ہوئے, اور صرف خواہشات باقی رہ گئیں, اور قدیم مدارس جدید علم وفکر اور جدید ایجادات کے لئے اپنے دروازے بند کر دینے کی وجہ سے بے فائدہ ہوگئے۔ تعلیمی مراکز میں عشق وشوق کے بدلے ارکان کے خصال شمار ہونے لگے, بار بار کی فراموشی کے احساس نے طاقت والوں سے ذات کا اظہار اور اصلاح کی فکر چھین لی... جس کی وجہ سے ہر چیز الٹ پلٹ ہو گئی, اورشجر امت کو جڑوں سے اکھیڑ کر اسے زمین بوس کر دیا گیا۔لگتا ہے یہ زلزے اس وقت تک نہ رکیں گے جب تک نیک بخت لوگ جنہیں مقدر نے ان راہوں کا راہی چنا ہے ان تحریکوں کا صحیح استعمال نہیں کرتے اور روح ودل کے مابین سانسوں کو بحال نہیں کرتے, اور انسانی نفس پر الہام وتفکیر کی راہیں نہیں کھولتے۔ ساتویں خصوصیت: وارث کی ساتویں خصوصیت فکر ریاضی ہے۔ گزشتہ ادوار میں ایشیا اور اس کے بعد مغرب نے جو ترقی کی وہ علم ریاضی کی مرہون منت ہے۔ انسانی تاریخ کے بہت سے اسرار ورموز کو علم ریاضی نے آشکارا کیا۔ اگر ہم حروف کے حد سے متجاوز تصرف کو ایک طرف رکھتے ہوئے دیکھیں تو ہمیں پتا چلے گا کہ اگر ریاضی نہ ہوتی تو انسان اور چیزوں کے مابین مناسبت کبھی واضح نہ ہوتی... گویا (یہ وہ نور کا منبع ہے) جو کائنات سے زندگی تک کشیدہ خطوط کی راہوں کو منور کرتا ہے,اور نہ صرف انسانی افق سے آگے کے جہاں دکھلاتا ہے بلکہ عالم امکان کی گہرائیوں اور ہمیں اپنے مقاصد تک پہنچاتا ہے۔ ریاضی اور اس سے ملتی جلتی اشیاء کے علم کا مطلب یہ نہیں کا ان کا جاننے والا ریاضی دان ہے۔ ریاضی دان ریاضی اور اس کے فکری قوانین کو آپس میں جمع کرتا ہے۔ وہ فکر انسانی سے لے کر وجود کی گہرائیوں تک پھیلی راہوں پر گامزن رہتا ہے۔ وہ فزکس سے لے کر روحانی علوم تک اور مادہ سے طاقت تک, اور جسم سے روح تک, اور شریعت سے تصوف تک کو ساتھ ساتھ لے کر چلتا ہے۔ وجود کے کلی ادراک کی خاطر ہمیں صوفیانہ فکر اور علمی تحقیق ہر دو کو سمجھنا ہماری مجبوری بن چکا ہے۔ مغرب والوں نے خودکو بے بنیاد چیزوں میں تھکا کر اپنی ضرورت کو تصوف سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ ہمیں کسی نئی چیز یا ایسی چیز کے سہارے کی ضرورت نہیں جو اسلامی روح کو خلط ملط کردے۔ ہماری قوت کے اسباب ہماری فکری وایمانی تنظیم میں مضمر ہیں۔ ہمیں اپنی ماضی کے آئینے میں ان اسباب اور اس روح کو سمجھنا ہوگا... تب ہمیں ہر چیز میں وجود اور اس کے محرکات کے غیر آشکارا اسباب دکھائی دیں گے, اور ایک نیا وژن اور مختلف فکر و نظر تک رسائی ہوگی۔ فکر ریاضی کے متعلق مختصراً بیان کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہے, مستقبل میں میری کوشش ہوگی کہ اس کمی کو پورا کیا جائے, یہاں میں آٹھویں خصوصیت کی جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہے ہماری فنی سوچ۔ اس بارے میں یہاں صرف گولفر کے قول پر اکتفا کروں گا: (بعض جماعتیں تاحال ہمارے مطلوبہ معیار پر پورا اترنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں)۔ انہی الفاظ پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ [1] ملاحظہ ہو النورسی , الکلمات صفحہ 292 [2] - یہاں مقصود پرانے اصولوں اور طریقوں پر سختی سے کاربندی اور لفظی معانی اور کلام موروثی مطالب کا سہارا لینا۔(مترجم) |