|
وراثت ارضی سے محرومی کے بعد, اسلام اور اس کے نا م لیوا دشمنوں کے ہاتھوں دل دہلا دینی والی بدسلوکی ظلم وزیادتی اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ دشمن کی سفاکی اور ظلم کوئی حیرانگی کی بات نہیں لیکن مسلمانوں کی کمزوری اور بے بسی بھی تو ناقابل برداشت ہے۔ تبی تو نبی کریم نے گنہگار کی سفاکی اور متقی کی عاجزی سے پناہ مانگی ہے۔
اس سے انکار نہیں کہ مسلمانوں کی سوچ اور منطقة اور ان میں کوتاہی ولا پرواہی بلکہ خرابی اور فساد نے قرآن اور آسمان نبوت کے بتلائے ہوئے صراط مستقیم سے دور کردیاہے... اور عالم اسلام کا سورج نظروں سے اوجھل ہو گیا, دنیا کو محیط دین معطل ہو کر رہ گیا۔ یہ بات واضح ہوچکی کہ قرون اخیرہ کے ان مسلمانوں اور خاص کر مسلم راہنماؤں کو درپیش اس متعدی اور دائمی پستی کا علاج چند مدارس کا افتتاح کر لینے, یا چند کانفرنسیں اور جلسے کرلینے یا مسکینوں کی طرح وعظ ونصیحتیں کرلینے سے کبھی نہیں ہوسکتا۔ علم وٹکنالوجی کے اس دور میں جڑوں تک پھیلی ہوئی پستی وذلت کے تدارک کے لئے, اپنی ذات کو پانے کیلئے, اور اسلامی شعور اور طریقےکے زاویے میں اسے پرکھنے اور عقلی محاکمت[1] کی خاطر ہمیں طویل کوشش, ہمت, انتظار, صبر و امید اور پختہ ارادے کے ساتھ مسلسل جد وجہد کر کے اپنی راہیں تلاش کرنی ہوں گی۔ بصورت دیگر اگر ہم نے اپنی طور طریقے نہ بدلے اور تباہی کے گڑھے سے نکل کر سنبھلنے کی جستجو نہ کی تو ہم اپنی جانوں کو دھوکہ دینے والے ہوں گے اور اپنی عوام کو مزید گہرائیوں میں دھکیلنے کا سبب بنیں گے۔ موجودہ حالات وواقعات کی روشنی میں اسلامی فکر وتصور کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کے سوا اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔ جس کے لئے اولاً تو ہمیں کائنات انسان اور زندگی کے بارے میں سوچ وبچار اور عقلی شعور بیدارکرکے ابتداء سے لے کر انتہاء تک ایسی معلومات حاصل کرنا ہوں گی جو انہیں مرکز کی جانب متوجہ کردیں۔گویا یہ معلومات ایک کثیر الالہان نغمہ ہے جسے خاص مقصد کے لئے گایا گیا ہو , یا ایک ایسا نقش جو دوسرے نقوش کے معنوی ربط کے لئے ضروری ہو۔ دوم یہ کہ یہ عقل اور محاکم ایسی خصوصیات کلیہ واجتماعیہ (جو ہمارے مطالعہ میں آئیں) کے ایسے معانی اور مطالب اور وضاحتیں سمجھنے کی طرف راہنمائی کرے جو دینا بھر کو شامل ہوں۔ جیسے کوئی منظوم کتاب جو حکمت سے بھر پور ہو, یا ایسا فنی اثر جو الہی مقام کے لاکھوں رنگوں کا عکاس ہو کہ ان کی روشنی اورنور سے آنکھیں خیرہ ہو جائیں, اور ایسی پر رونق نظر و بصیرت کاحامل ہو کہ کلیات میں پوشیدہ جزئیات بھی اس میں صاف دکھائی دینے لگیں۔ اور کلیات بھی ایسی کہ جن کی جزئیات اور فروعات لا تعداد ہوں۔ تاکہ ایک قسم دوسری قسم سے یا ایک جزء دوسرے جزء سے یا ایک وقت دوسرے زمانے سے نہ تو مختلف ہو, نہ متصادم, نہ ہی متضاد۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی خاص میدان یا فیلڈ کی طرف نہیں بلاتے ۔ بہتر تو یہ ہے کہ ہر انسان کسی ایک میدان یا فیلڈ میں تخصص کرے اور پھر اسی میں کمال کی بلندیوں کو چھوئے, اور اسی میں ہر فن مولا ہو ... اور اپنی کوشش اور محنت کے دوران نہ صرف یہ کہ باقی سب کے معنی, مطالب اور ضرورتوں کا خیال رکھے بلکہ ان کے مقاصد اور غرض وغایت کو بھی مد نظر رکھے۔ اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ مشترکہ شعور کے ذریعے یا علم واحساس کے طفیل اور منظم وکامل کوشش کے سبب , یا اپنی سمجھ بوجھ کی بدولت ۔بلا شک وشبہ ہمیں ایسی کلی وشامل اور عمومی اور موضوعی اہمیت کی حامل اقدارکی سخت ضرورت ہے۔ جی ہاں, آج ایسی فکر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے جو آج اور کل کے تصور کو شامل ہو۔ جو ایک ساتھ ہی اور ایک ہی وقت میں کائنات اور انسان اور حیات کے بارے میں غور فکر اور موازنہ کی جانب راغب کرے, وجود کے اسباب اورعلتوں کی وضاحت کرے, امتوں اور جماعتوں کے ظہور اور پیدائش کو شامل ہو,اس بات کی نشاندہی کرے کہ علم نفس اور علم اجتماع میں کیا درست اور کیا غلط۔ تمدن کی تبدیلی اس کی پیدائش اور موت پر نظر رکھے۔ وسائل اور انجام میں تمیز کرنے پر قادر ہو۔ فکر ی پختگی اور وجدان کی سلامتی کا ملکہ رکھے, مقاصد کا احترام کرے۔ شریعت کی حکمت اور صاحب شریعت کے مدعا سے بخوبی آگاہ ہو۔ بنیادی دینی احکامات کا علم رکھے اور الہی تعلیمات کو لاگو کرے۔ ادراک رکہنے والے وہ لوگ جو ہمارے غیر فہم فکری نظام کی وضاحت کرنے کا کام کریں... آسمانی تعلیمات سے منحرف عقلی فکروں کو قرآنی اسلوب میں ڈھالیں... اور یہ کام کرتے ہوئے وہ کائنات انسان اورحیات میں پوشیدہ رازوں سے غافل نہ ہوں... دین کا ایسا نمونہ ہو جو دینی اوامر کو زندہ کریں اور اس پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے سلوک کے راستے میں اس حد تک آگے نکلے ہوئے ہوں کہ صاحب شریعت کی تعلیمات پر آسانی سے کاربند ہونے کا پورا پورا حق ادا کریں, صلح پسند ہوں, محبتیں بڑھانے والے اور نفرتیں مٹانے والے ہوں ... اور صدیوں سے لاحق اس متعدی جمود کو علم اور فکر کے ذریعے اسلام کا حقیقی نمونہ اور تفسیر بن کر ختم کریں ...ہر جگہ چاہے وہ مدرسہ ہو یا مسجد, گلی کوچہ ہو یا گھر, ایسی شکار گاہوں میں تبدیل کردیں جو وجود انسان اور حیات کے پوشیدہ رازوں کو بیان کریں... اور صدیوں پرانے لا متناہی تکلیف دہ بند کواڑ وا کریں... اسلام کو ہر نظر اور شعبہ حیات میں اجاگر کرنے والے لشکر تیار کریں... علتیں بیان کرتے ہوئے اور اس کا نتیجہ اور عقلی دلیلوں سے معاملوں کی حساسیت واضح کریں ... یہی لوگ ہمیں اپنے وجود کو باقی رکھنے کے طریقوں سے آگاہ کر سکتے ہیں ۔ بعض لوگ اس اہتمام کو برا اور ناپسند اور اپنی شان کے منافی اور بد ادبی سمجھیں۔ مجھے بھی اس میں کچھ خدشات ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ صرف اپنی ذمہ داریاں نبھائے, اور رب کے کاموں میں مداخلت نہ کرے۔ کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس کے لئے اسباب کا سہارا لینا اور حق تعالی شانہ سے کامیابی کی دعائیں مانگنا ہوگا۔ ان کو شرف قبولیت بخشنا ذات الہی کو سزاوار ہے کیونکہ ہم مخلوق ہیں اور وہ خالق۔ اس کی ایک صورت یہ بھی کہ اللہ تعالی نے قبولیت کو بھی ہماری ذات سے منسلک کر دیا ہے, ہمارے اختیار کے مطابق[2], جیسا کہ اس کے ارادہ اور مشیت ایزدی کا تقاضا ہے۔ اور اس کو بھی اہم بتایا ہے, اس نہج پر اللہ تعالی نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے, اور سچ کر دکھایا ہے... اور اس اختیاری چیزکو گناہ اور ثواب کا وسیلہ بتایا ہے, اور سزا وجزا اور مکافات کی بنیاد اسی کو کہا ہے, اچھائی اور برائی میں عامل مؤثر کے طور پر مقبول ہے ... باوجودیکہ یہی اختیار بذات خود کوئی قیمت نہیں رکھتا, لیکن اللہ سبحانہ وتعالی اپنی مشیت سے (نتائج کی رو سے) اسے قیمتی بنا دیتے ہیں۔ اگر یوں نہ ہو تو زندگی جام ہو جائے اور انسانی جمود کا شکار ہو جائے, تکلیف کا احساس ختم ہوجائےاور ہر چیز بے کار ہو جائے۔ اس امر کو قابل توجہ سمجھنا اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالی کبھی کبھی اپنی قدرت کے اسرار دکھاتا ہے لیکن اس صورت میں جب دنیا اور آخرت کی تعمیر مقصود ہوتی ہے۔ استعمال ہونے والا وسیلہ جیسے بجلی پیدا کرنے کا عمل جو دنیا کو روشنی بخشتا ہے , ایک قطرہ میں سمندر ہے اور ایک ذرے میں سورج اور عدم سے وجود ۔ اسباب کا حکم ذات باری تعالی پر لاگو نہیں ہوتا نہ ہی اس کے اردے اور مشیت کو مقید کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالی حکم دیتا ہے۔ اللہ اکیلا ہی حاکم مطلق ہے۔اسباب اور علتیں ایک چھوٹی سی چیز ہے جو اللہ تعالی کے حکم کے تابع ہیں۔ اس اعتبار سے انسان سزا کا حقدار ہوتا ہے اگر وہ شریعت کے خلاف ورزی کرے, زیادہ تر دنیا میں اور کچھ آخرت میں۔ خلیفہ عادل حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کیا خوب جواب دیا ۔ (ہم اللہ کی ایک فیصلے سے دوسرے فیصلے کی جانب بھاگتے ہیں)[3] آپ نے یہ اس وقت کہا جب قضاء وقدر پر راضی رہتے ہوئے, آپ نے اس شہر میں داخل ہونے کا حکم امتناعی جاری کیا جس میں وبا پھیل چکی تھی۔ نتیجے کو مد نظر رکھ کر منصوبہ بندی یا کوئی حرکت کرنا[4], اور اس کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانا , اس میں خود کو تھکا دینا پریشانی اور عذاب کا باعث ہے, اور (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کی توقیر کے خلاف گویا اس کی ذات سے برابری ہے ۔ ارادوں اور اختیار کا معطل ہوجانا اور خارق عادات کا وقوع پذیر ہوجانا ایک طبعی امر ہے ۔ قرآن کریم میں بار بار ارشاد ہے ]جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ[ ]جَزَاء بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ[ ۔ انسان کو جو بھی اچھائی اور برائی ملتی ہے وہ اس کے اپنے اعمال افعال اور تصرفات کا نتیجہ ھے۔ قلبی و عقلی اور وجدان کے مابین موازنے کا عظیم نمومہ فخر انسانیت سید الانام حضور نبی کریم e نے سبب اور نتیجے, علت اور معلول اور کوشش اور اس کے پھل کے مابین گہرے ربط اور مخفی تناسب سے باخبر کرتے ہوئے فرمایا ہے: (قیامت کے روز کوئی بھی انسان اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہل سکے گا جب تک کہ وہ پانچ سوالوں کا جواب نہ دے دے, عمر کہاں گزاری, جوانی کہاں گزاری, مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا, اپنے علم پر کتنا عمل کیا)[5] اسلام جہاں مؤمن کے لئے دنیا و آخرت کی زندگی, اس کے اعتقاد اور عمل , اس کے عبادت کے طریقے اور اخلاق کی ترتیب بتاتا ہے وہاں بین السطور وہ اس کی ذات میں آخرت اور الوہیت کے بارے میں اس کی روحانی عقلی قلبی وجدانی اور احساس کی اصلاح کی جانب بھی نشاندھی کرتا ہے , تاکہ وہ اسے گہرائی میں گر جانے کے بعد دوبارہ زندگی کی جانب لوٹائے۔ تاکہ اسے اللہ کا خلیفہ بننے کا موقع دیا جا سکے اور اشیاء میں مداخلت کر سکے اور اللہ تعالی کے طریقے کے اسرار ورموز کو پا سکے۔اور اس کائنات جو کہ اس کے ارادہ اور مشیت کا مظہر ہے اور اس کی نازل کردہ آیتوں اور کلام پر غور وفکر کر سکے, گویا یہ ایک ہی چیز کے دو رخ ہیں ... اور تاکہ وہ آسمانوں اور زمینوں کے موجودات کو دیکھتے ہوئے اپنے تصور اور فکر ,اپنی زندگی و اعمال اور دنیا و آخرت پر غور خوض کر سکے۔ اسلام کے سب تانے بانے عقل وجدان روح اور جسم کے گرد بنے گئے ہیں۔ جو کہ سب کے سب دنیوی اور اخروی گہرائیوں کو سموئے ہوئے ہیں, ان میں سے کوئی ایک بھی اگر آگے پیچھے ہو جائے تو اس کے بغیر باقی عناصر اسلام کا صحیح تصور یاتعبیر یا نمائندگی پیش نہیں کرسکتے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اسلام جو کہ خالق کائنات کا ساری دنیا کے لئے ایک عظیم عطیہ ہے جو کسی بھی ایسی خوبی کی وجہ سے ایسے فعال گروہ کی طرف منتقل ہو جائے جو خوبی اسے سب سے بہتر بنا دے۔ اور یہی وہ معنوی فہرست ہے جو عقل وجدان روح اور جسم اور لطائف سے تشکیل شدہ ہے۔ اس مسئلے کی وضاحت ہم اس کے مقام پر کریں گے۔ آنے والا کل عالم اسلام اپنی ذاتی اور روحانی جوہر حاصل کئے بغیر کئی صدیوں سے اپنی غلطیوں کے دائرے میں سرگرداں ہے ۔ ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو کئی قدم پیچھے پہنچ جاتا ہے یا راستہ بھٹک جاتا ہے۔ انہی گردش دوران نے اس کی نیکیوں کو مٹا کر اور نقصانات نے فوائد کو بے معنی کر کے ذات کی جانب لوٹانے والی راہوں کی تلاش میں انکی اجتماعی کاوشوں پر برے اثرات مرتب کئے ہیں, جس کی وجہ سے نیک اعمال اور نیک لوگ تزلزل کا شکار ہیں ۔ یہ حالت بتاتی ہیں کہ زمانہ بدل چکا ہے اور ملکوں اور جوانوں کا پہیہ ان کی مصلحتوں کی مخالف سمت بہہ رہا ہے ۔ لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تمام عالم اسلام کو ایمان بمع اس کی جملہ جزئیات کے دوبارہ سمجھایا جائے اوراسے اسلامی تعلیمات[6] سے روشناس کرایا جائے, شعور احسان, عشق اور شوق , منطقة , سوچنے کا طریقہ اور اس کے نظم ونسق جس سے یہ صفات حاصل ہوں سے استفادہ کرنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔ ہماری حقیقی زندگی کی بنیاد دینی فکر اور دینی تصورات پر قائم ہے۔ اسی بنیاد کی بدولت آج تک ہمارا وجود محفوظ اور اسی کی بدولت آج ہم منصہ شہود پر ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگیوں سے اس کو نکال دیں تو ہم اپنے آپ کو ہزار سال پیچھے پائیں۔ وہ دین جس کا مقصد انسان اور کائنات کو اس کے حقیقی معنی سے روشناس کرانا انسانی روح اور ذات کیلئے کشادہ ذہنی, اور ان خواہشوں کا حصول جو صدیوں پرانی ہیں اور وجدان میں ہمیشہ رہنے کا احساس ... صرف عبادات میں منحصر نہیں۔ بلکہ فردی اور اجتماعی زندگی دونوں کو شامل ہے ... اور ہماری ہر ایک چیز پر اثر انداز ہے چاہے اس کا تعلق عقل سے ہو روح سے یا دل سے۔ اور ہماری نیتوں کے مطابق ہمیں ہمارے رنگ میں رنگتا ہے, اور اس کے رنگ سے ہر چیز رنگین ہے۔ جی ہاں, سچے مؤمن کا ہر ایک کام عبادت کے گرد گھومتا ہے, اس کی ہر کوشش جہاد کی زمرے میں آتی ہے , اس کی ہر محنت اور کوشش میں آخر ت اور رضا کا پہلو مضمر ہے ۔ اس کی زندگی میں سے دنیا وآخرت کو علیحدہ علیحدہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے دل اور عقل کے درمیان کوئی پردہ نہیں... اس کی سوچ اور زبان ہم آہنگ ہوتی ہے ... اس کے ہر غور وخوض میں تعلیمات اسلامیہ سے مطابقت ہوتی ہے۔ اس کی فکری تجربہ اور مہارت نور کے وہ مراتب ہیں جو اسے عقل تک پہنچاتےہیں, اور علم فراست کا ایک بلند پہاڑ ہے ۔ وہ عشق کے مراتب کا ایک لا متناہی آسمان ہے اور انتہائی سمجھداری سے وجود کو ایسے پینجتا ہے جیسے روئی کو پینجا جاتا ہے۔ اس سوچ کے تمام زاویوں میں کوئی فراغ نہیں ہے لہذا اس حساب سے اس نظام میں انسان کے لئے انفرادی یا اجتماعی تقصیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو لوگ دین, علم اور عقلی فیصلوں میں میں تصادم پیدا کرتے وہ ایسے بے وقوف ہیں جو دین اور عقل کی روحانیت سے جاہل ہیں۔ دین کے نام پر تصادم کی اس ذمہ داری کو مختلف گروہوں پر ڈالنا اپنے آپ کو دھوکے میں ڈالنے کے برابر ہے۔ کیونکہ گروہی تصادم کی وجہ جہالت , ذاتی منفعت اور گروہی مصلحتیں ہیں۔دین حنیف اس طرح کی سوچ وافکار کی حمایت نہیں کرتا۔ اور درحقیقت ایک طرح کا تصادم دین دار لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ کہ یہ لوگ سچے ایمان اور اخلاص کے اعلی مقام تک نہیں پہنچے ... اور بعض اوقات اپنی سوچوں کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ... اور مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اس طرح کی بیوقوفانہ حرکت سے باز رہتا ہے, درحقیقت اس بیوقوفی سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے اسلامی نظام کا نفاذ اور اسے معاشرے کے خون وگوشت میں بسانا۔ اسلامی معاشرے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے اور اسکی عقلی روحی اور فکری خصوصیات اجاگر کرکے اس میں نئی روح پھونکنے کی ضرورت ہے, ایسی روح جو تمام انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور زندگی کے تمام شعبوں اور ہر زمان ومکان کو محیط ہو جو ایسی جد وجہد کے طفیل ہو جو دین کی اصلیت کو باقی رکھے۔ اس مبارک نظام کا سایہ جب بھی ہم نے اپنے سروں پر محسوس کیا (اللہ تعالی اسے ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم رکھے) ہم نے محسوس کیا کہ اس میں ایسی وسعت ہے جس سے ہر بار تجدید اور اصلاح کے دروازوں میں داخل ہوا جا سکے, لہذا ہم نے کئی بار اس کا عروج دیکھا۔ پورا مذہب اور اکثر اوقات فقہ اور حقوق میں جدید نمائندگی دیکھنے کو ملی۔ صوفیانہ طریقے قلب وروح کے اصلاحی طریقوں کو مزین کرتے رہے۔ مدارس اور سکولوں نے عموماً اور وجود اور کائنات کے حقیقی معانی آشکاراکئے۔ دور حاضر کی جو تجدید اور عروج متوقع ہے وہ صرف انہیں باتوں سے ممکن ہے جنہیں ہم نے بیان کرکے ایک جگہ جمع کیا۔ اس کامطلب روح کو عقل سے علیحدہ کرنا۔اور ظاہری اشکال اور راستوں کو جوہر اور روح سے ہر مقام پر علیحدہ کرنا۔ اس کا مطلب یہ کہ ایمان پر پختہ یقین, ہر کام میں اخلاص اور احساس وفکر میں عبادت کا پہلو مد نظر رکھنا ... جی ہاں, مناسب ہوگا کہ عبادات میں مقدار پوری ہو اور نوعیت مقرر ہو, کلمات وسیلہ ہوں اور روح اور صدق دعاؤں کی بنیاد ہو, تمام اعمال سنت مطہرہ کی راہنمائی میں کئے جائیں اور شعور کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ان سب میں اللہ کی رضا مقصود ہو .... نماز صرف کھڑے ہونے اور بیٹھنے کا نام نہیں ... اور نہ زکات صرف مال کو نکال کر پھینکے کا نام ہے کہ جہاں جاتا ہے چلا جائے, اور اگر روزہ صرف بھوک اور پیاس کاہی نام ہے تو اس میں اور ڈائٹ میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ اور حج کے اگر مقاصد حاصل نہ ہوں تو اس میں اور مال کمانے کی خاطر ایک شہر سے دوسرے شہر کی سیر وسیاحت میں کیا فرق ہو؟ اگر مقدار کو مد نظر رکھیں تو تمام عبادتیں بچوں کا کھیل لگیں ... روحانیت سے عاری دعائیں اور پکار گلا پھاڑنے کے سوا کچھ نہ ہو۔ حج او رعمرہ کی مشقتیں اگر اس نظریے سے کاٹی جائں کہ لوگ حاجی کہیں گے تو بے سود ہں... وہ انحطاط جو ان منفی سوچوں کے جال میں الجھا ہو سے چھٹکارے کا راستہ اس خلا کو پر کرنے میں ہی مضمر ہے, اور ایسے نفیر عام کے اعلان کی ضرورت ہے جو ہماری کمزوریوں کو زائل کرکے جسم اور بدن کی تابعداری سے بچائے۔ جب ہم بچ جائیں, تو روحانی و حقیقی طبیب قلب وروح کو زندگی کی ڈگر پر چلانے کے لئے آگے بڑھیں... وہ طبیب جو قلب وروح کی گہرائیوں سے واقف ہوں, علم وذکاء اور عرفان اور ان کے فوائد اور فیوض کی راہوں کے راہی ہوں, فزکس سے لے کر علوم الہیہ تک, ریاضی سے لے کر علم اخلاق تک,فنون جمیلہ سے تصوف تک , کیمیاء سے روحانیت تک, علم فضاء سے علم النفس تک, حقوق سے فقہ تک, سیاست سے سیرت وسلوک تک۔ نوجوانوں کو ان علموں کی نہیں بلکہ ان جیسی عقلوں کی ضرورت ہے۔جیسے عقل کا رابطہ اعصاب کے ذریعے بدن کے تمام دور وقریب کے حصوں سے یکساں ہوتا ہے, اور ہر عضو کے ساتھ پیغام رسانی رہتی ہے , لہذا اہل عقل وخرد کا یہ گروہ نواجوانوں کے تمام نشیب وفراز سے آگاہ ہو, اور معاشرے کی تمام جزئیات کو ایک دوسرے سے ملائے,اپنا دست تصرف تمام متحرک اجزاء پر رکھے... اورہر طبقہ فکر کی روحانی اور معنوی تربیت کرے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں دور حاضر کی امنگوں کے مطابق ہو اور جس کی تاثیر مستقبل تک پھیلی ہوئی ہو۔ یہ جماعت ہر فن مولا ہو۔ وہ مدارس کےمہذب ومؤدب بچے ہوں یا گلی کوچوں کے آوارہ و لا پرواہ نوجوان۔ ہر ایک کی روحانی تعلیمات کی روشنی میں تربیت کرکے انہیں معاشرے کے لئے ایسے مفید شہری بنائے کہ وہ مستقبل کے علوم و مہارتوں میں قابلیت حاصل کر سکیں اور ہر طرح کے نورانی مراکز میں , اور طلبہ کی رہائش گاہوں میں, مدارس, یونیورسٹیوں اور عبادت گاہوں میں ان کی تربیت کرکے انہیں لغزشوں سے پاک کرکے انہیں انسانی کمالات کی بلندیوں تک پہنچائے۔ یہ جماعت اخباروں, رسائل , جرائد, ریڈیو , ٹیلی وژن اور دیگر میڈیا کی وحشت کو انس میں تبدیل کرتے ہوئے انہیںایک جانب تو دین اور قوم کی آواز بن جائیں تو دوسری جانب معاشرے میں رائج پراگندہ احساسات, بیمار افکار اور اندھیر نگری کی اصلاح کرکے انہیں انسانی ضرورتوں کے مطابق بنائے۔ یہ جماعت نظام تعلیم وتربیت کو بیرونی دباؤ اور اندرونی بے راہ رویوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اور اسے تاریخ اور دور حاضر کی ضرورتوں کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے بلندیوں کے اس مقام پر لے جائےکہ وہ ایسی تحریک بن جائے جس کا اپنا ایک منشور ہو ایک پروگرام اور ایک اپنا طریقہ کار۔ علاوہ ازیں, حسی وفکری تنگدسی اور ظاہری چکاچوند کو چھوڑ کر صحیح علمی فکر کی جانب ترقی کرے, فن کے نام پر گھٹیا حرکتوں کو چھوڑ کر سچے فن وجمال کی طرف راہنمائی کرے۔ بے مقصد و بے معنی عادات واطوار چھوڑ کر دین اور تاریخ کے سانچے میں اخلاقی شعور بیدار کرے۔اور ہمارے دلوں میں رچ بس جانے والی وہ مختلف قسم کی غلط سوچیں جنہوں نے ہمیں تکھایا اور نکما کردیا کو خدمت , تسلیم , شعور اور توکل سے تبدیل کردے۔ ہم دنیا کی جدید ایجادات کی جانب توجہ دیں۔ ہم پرانے نظام میں سے کسی نئے نظام کو , یا اشتراکی خواب, یا اشتراکی تباہ کاریوں یا معاشرتی جمہوریت, یا لیبرل ازم کو تسلیم نہیں کرتے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کوئی نظام جدید عالمی نظام کی ضرورتوں پر پورا اتر سکتا ہے تو وہ ہمارا نظام ہے۔ اور آئندہ نسلیں دیکھیں گی یہی ہماری بلندی اور عزت کا دَور ہوگا۔ یہ دوبارہ پیدائش, ہماری سوچوں اور افکار اور اسی طرح ہمارےفن و جمال کی مروجہ سوچوں سے یکسر علیحدہ اور مختلف معانی دے گی۔ جس کے سائے میں ہم اپنے پسندیدہ شوق پورے کرتے ہوئے اور اپنی موسیقی تک پہنچیں گے اور اپنی محبت پائیں گے, اور ہمارے نوجوان ایک ایسی پناہ گاہ میں پہنچ جائیں گے جو ہر طرف سے محفوظ ہوگی چاہے وہ علم وفن ہوں یا فکر و اخلاق, تب ہم اس کے مستقبل کی ضمانت دے سکیں گے۔ ان حالات میں ایمان اور حقیقت کو زاد راہ بناتے ہوئے ہر ایک شخص کو نکلنا اور آگے بڑھناہوگا۔ ایمان اور اخلاق سے روگردانی کرتے ہوئے بیماریوں کے علاج کے لئے ہمیں غیروں کے دروازوں پر لے جانے والے یقیناً چین بجبین ہوں گے۔ ہم نے شرف پالیا ہے اور ہم اس ذات کے فضل سے جس نے ہمارے دلوں میں شرف ودیعت کیا اور اس امت سے ہماری نسبت جوڑی اور جس ذات نے ہمیں اور ہمارے ملک جس میں ہم رہتے ہیں اور جہاں ہم نے پروش پائی کو دنیا کی ہر چیز پر فضیلت بخشی, اس نسبت اور تعلق کی بدولت ہم شرفاء ہی رہیں گے۔میں نہیں سمجھتا کہ مجھے حقیقت حال سے ہٹ کر کچھ بیان کر نے کی ضرورت ہے۔ نئے سرے سے اٹھ کھڑے ہونے کے متعلق مزید تفصیل ہم کسی اور باب میں بیان کریں گے ۔ [1] محاکمہ کا لفظ جب بھی مستعمل ہو اس کا معنی عقلی و منطقی غور وفکر اور ادلہ کی تلاش کے بعد قیاس اور نتیجہ کے حصول کے لئے استنباط کرنا مراد ہوں گے۔(عربی مترجم)ه [2] یہاں اس سے مراد وہ ارادہ جس کا اللہ تعالی بندے کو اختیار سونپا ہے, عقل سے ما وراء اس کا کوئی تصور نہیں (عربی متجرم) [3] بخاری شریف , الطب 30 / مسلم شریف , السلام 98 [4] مصنف نے کلمہ (Action) استعمال کیا ہے جس کا مقصد قضیة دعوت رسالہ تاثیر ہے ہم نے اس کا ترجمہ جہاں بھی گزرا ہے تحریکی کام سے کیا ہے ۔ آئندہ ترجمہ میں بھی یہی معنی ذہن نشین رہے۔ (عربی مترجم) [5] ترمذی شریف, کتاب صفتة القیامہ [6] عربی مترجم نے لفظ تلقیات الاسلام استعمال کیا ہے جس کی تشریح انہوں نے اسلام کا حقیقی مفہوم انسانوں کیلئے اس کی ضرورت اور تصورات سے کی ہے۔ |