|
عالم اسلام گزشتہ کئی سالوں سے عقیدہ , اخلاق, انداز فکر, ادراک, پیشہ, عادات, تقالید, اور سیاسی ومعاشرتی اعتبار سے تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے۔
مسلمان ایک ایسےمکمل ادارہ کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے کہ انسانی سوچ اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے, یہ وہ وقت تھا جب مسلمان دین پر سختی سے کاربند تھے, اخلاقی بلندیوں کو چھو رہے تھے, اپنی عادات اورتقالید کے پیروکار, اور اپنی سیاسی اجتماعی اور فکری نظم ونسق کی وجہ سے دنیا کے قیادت کرنے کے حقیقی حقدار تھے۔ ان کے شب وروز دین کے مطابق تھے, اخلاق کامل,علمی سوچ, زمانہ بھر کے انسانوں سے بہتر۔ وہ اپنا نظام حکومت تین ستونوں (الہی تعلیمات, عقل , تجربہ) کی بدولت کوہ بیرینہ سے لیکر بحر ہند اور قازان سے لے کر صومال اور بواتییہ[1]سے لے کر دیوار چین تک وسعت دینے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے اس وقت جب ساری دنیا گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی اپنی عظیم سرزمیں کے باسیوں میں مثالی اور حیران کن نظام حکومت کے ذریعے زندگی کی ایسی نئی روح پھونکی جس کے طفیل وہ دنیا کو دین پر قربان کردینے والے بن گئے۔ انتہائی دکھ کا مقام ہے کہ آج یہ اپنی تاریخ اور ان اسلامی اقدار جن کے طفیل اسلام کو سربلندی ملی جہالت, اخلاقی گراوٹ, خرافات, نفسیانی وجسمانی خواہشات میں مبتلا ہو کر اندھیروں اور تباہیوں میں یوں گرے اور گرتے ہی چلے گئے... یوں بکھرے جیسے تسبیح کے دانے دھاگہ ٹوٹ جانے پر بکھر جاتے ہیں, یا کتاب کے ان صفحات کی طرح جس کا دھاگہ کھل چکا ہو۔ پاؤں تلے روندے گئے ... چاک چاک, غیر محفوظ۔ محنتیں رائیگاں گئیں اورکوششیں بے فائدہ۔ ٹوٹی ہوئی ہزاروں حصوں اور فرقوں میں تقسیم شدہ پیٹھ... پاگل پن تک پہنچی ہوئی پریشانی, جب آزادی کے نغمے گنگنائے تو سینہ درد کی ٹھیسوں سے ٹکڑے ٹکڑے, غلامی کی شرمندگی سمیٹے, بے پہچان درد۔ علی الاعلان اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی , جن کاموں سے روکا گیا ان سے نہ رکنا, انتہائی ناامیدی ومایوسی , بلکہ کئی منکرات پر سختی سی کاربندی, اور روکی گئی باتوں کو جان بوجھ کر اپنانا۔ اغیار کی چوریوں اور اپنوں کی حرام خوریوں اور لوٹ مار کے باوجود بھی یہ تند وتیز عرصہ کچھ زیادہ عرصہ تک برقرار نہ رہ سکا۔ آج مسلمان دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہونے کے باوجود زمین کے کونے کونے میں اپنی بقا کی جستجو میں غوطہ زن ہیں, اور اس ذلت آمیز غلامی سے خلاصی کیلئے کوشاں ہیں۔ اور اگرچہ گزشتہ کئی سالوں سے ان کی حالت ایسی ہے کہ صبح ایک مصیب ہو توشام کو دوسری, روحانی رسی کو بانٹنے میں ان کی مدد کی انہیں اللہ کی جانب متوجہ کیا اور مقابلہ کرنے کی ہمت بخشی۔ ہم نے (الحق یعلو ولا یعلی علیہ)[2] کی تند وسست ہوا میں سانس لیااور ظلمت کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہم نے اپنی نظریں } وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ { (الاعراف 28) پر مرکوز کیں, کیونکہ روح اسلامی انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور وہ انسانی فطرت کی مادی ومعنوی ترقی کا سبب ہے۔ اور دین حنیف کی اس قدر سربلندی کہ دنیا وآخرت کے مابین موازنہ کرنے میں کوئی دشواری نہ رہے... اور ہم کبھی ناامیدی اور شکست کا شکار نہ ہوں۔ ہر گروہ میں اسلام قبول کرنے والے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور امریکا سے لے کر ایشیا تک اور سکاٹ لینڈ سے لے کر آسٹریلیا تک یہ سلسلہ مسلسل پھیل رہا ہے یہاں تک کہ اسلام کا بول بالا ہو جائے۔ مختلف عیسائی مشنریاں اور تنظیمیں اپنی تمام تر کوششوں اور مساعی کے باوجود اسلام کے مقابلہ میں اپنے پیروکاروں کو اپنے چرچوں میں حاضر کرنے میں عشر عشیر بھی حاصل نہ کرسکیں۔ دنیا بھر کے تمام ملکوں سے ہر سال لاکھوں افراد بھوک اور تنگدستی کے ادراک باوجودبھی دائرہ اسلام میں فوج در فوج داخل ہو کر نور قرآنی سے منور ہو رہے ہیں۔ امید واثق ہے کہ ہم عنقریب –(بشرط زندگی) سورةہ نصر کی پیشن گوئی کو ایک بار پھر سچ ہوتا ہوا دیکھیں گے... اور ایک بار پھر ہر سو ایمان, امید اور امن کے پرچم لہرائیں گے, اسلام کے سائے میں ہر گام پر خوشیاں اور اطمینان کا دور دورہ ہوگا... اور عنقریب زمین کے باسی ایک بار پھر اس عظیم عالمی نظام سے متعارف ہوں گے, اور وہ وقت دور نہیں جب ہر انسان اپنی فطری وسعت اور فکری افق کے مطابق اسلام کی ان تازہ معطر ہواؤوں سے مستفید ہو سکے گا۔ [1] بیرینہ فرانس اور اسپین کے درمیان پہاڑی سلسلے کا نام ہے, اور قازان روس کے زیر تسلط جمہوریہ تاتارستان ةکا دار الخلافہ اور نہر فولغا کے کنارے ایک شہر, اور بواتییہ فرانس کا ایک شہر جو شہداء کے خون سے رنگین کے نام سے مشہور ہے۔ (مترجم)ة [2] (الحق یعلو ولا یعلی علیہ)الدار القطنی اور الضیاء نے اسے المختارة میں روایت کیا اورالرویانی نے عائد بن عمر سے اور المزنی نے اسے مرفوع کہا, اور طبرانی وبیہقی نے معاذ نے اسے مرفوع کہا,اور بخاری نے اسے اپنی صحیح میں اسکی تفصیل بیان نہیں کی۔ احمد کی روایت میں مشہور ہے کہ ایک علی کا اضافہ ہے , اور (الحق یعلو ولا یعلی علیہ) زبان زد عام ہے (کشف الخفاء 1/127) |